حضرت رائے پوریؒ کے معمولات میں لکھا ہے کہ جب 29 شعبان کا دن ہوتا تھا تو اپنے مریدین و متوسلین کو جمع فرما لیتے اور سب کو مل لیتے اور فرماتے کہ بھئی! اگر زندگی رہی تو اب رمضان المبارک کے بعد ملاقات ہو گی اور اپنے خادم کو بلاتے اور اسے ایک بوری دے دیتے اور فرماتے کہ رمضان المبارک میں جتنے خطوط آئیں وہ سب اس بوری میں ڈال دینا زندگی رہی تو رمضان المبارک کے بعد ان کو کھول کر پڑھیں گے،
رمضان المبارک میں ڈاک نہیں دیکھا کرتے تھے، فرماتے تھے کہ یہ مہینہ بس میں نے اپنے لیے مخصوص کر لیا ہے، اگر زندگی رہی تو اس کے بعد پھر دوستوں سے ملاقات ہو گی آپ کے ہاں پورا رمضان المبارک اعتکاف کی حالت میں گزارنے کا معمول تھا، 29 شعبان المعظم کے دن جو شخص آپ کی مسجد میں بستر لے کر جاتا اس کو مسجد میں بستر لگانے کی جگہ نہیں ملا کرتی تھی، دور دراز سے لوگ رمضان المبارک کا مہینہ وہاں گزارنے کے لیے آتے تھے اور پورا رمضان المبارک عبادت اور یاد الٰہی میں گزار دیا کرتے تھے۔
عورت مرد کے برابر ثواب میں
ایک مرتبہ حضورؐ کی خدمت میں ایک صحابیہؓ آئی اور عرض کرنے لگیں کہ عورتوں کی طرف سے نمائندہ بن کر آئی ہوں اور آپؐ سے سوال پوچھنا چاہتی ہوں، اللہ کے نبیؐ نے فرمایا کہ سوال پوچھو، وہ کہنے لگی سوال میں پوچھنا چاہتی ہوں کہ مرد لوگ نیکی میں ہم سے آگے نکل گئے، فرمایا: وہ کیسے؟ کہنے لگی کہ مرد لوگ مسجد میں جا کرجماعت کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں انہیں اجر و ثواب زیادہ ملتا ہے، جہاد میں آپ کے ساتھ جاتے ہیں۔ یہ قبرستان میں جا کر جنازہ پڑھتے ہیں، مردے کے کفن دفن میں شریک ہوتے ہیں جبکہ ہم گھروں میں بیٹھی رہتی ہیں تو ہمیں یہ نیکیاں نہیں ملتیں، مرد ہم سے آگے نکل گئے،
اللہ کے نبیؐ نے فرمایا: پوچھنے والی نے بہت اچھا سوال پوچھا، پھر آپؐ نے فرمایا: جو عورت گھر کے اندر نماز پڑھ لیتی ہے اس کو اس مرد کے برابر ثواب ملتا ہے جو مسجد میں جا کر نماز پڑھ لیتا ہے اللہ تعالیٰ فرض نماز مسجد میں جا کر ادا کرنے والے کے برابر ثواب عطا کر دیتے ہیں اور پھر یہ بھی فرمایا جو عورت اپنے بچے کی خاطر رات کو جاگتی ہے،
(بچہ دودھ کے لیے جاگا یا اپنی کسی قضائے حاجت کے لیے جاگا اور ماں کو جاگنا پڑا) فرمایا: جو عورت اپنے بچوں کی وجہ سے رات جاگتی ہے، اللہ تعالیٰ اس کو اس مجاہد کے برابر اجر عطا فرماتے ہیں، جو سرحد پر کھڑا ہو کر ساری رات پہرہ دیتا ہے۔
ٹیلے کے برابر آٹا صدقہ کرنے کا اجر
ایک مرتبہ بنی اسرائیل میں قحط پڑا۔ لوگ بھوک سے مرنے لگے۔
ایک آدمی شہر سے باہر نکلنے لگا تو اس نے اپنے سامنے ریت کا ایک بڑا ٹیلہ دیکھا، جو پہاڑ کی طرح تھا، یہ دیکھ کر اس کے دل میں بات آئی کہ اگر میرے پاس اتنا آٹا ہوتا تو میں شہر کے سارے لوگوں میں تقسیم کر دیتا، حدیث پاک میں آیا ہے کہ اللہ پاک نے فرشتے کو اس وقت حکم دیا کہ جاؤ اور میرے بندہ کے اعمال میں اتنا آٹا صدقہ کرنے کا اجر لکھ دو۔



















































