حضرت ابوبکر رضی اللہ تعٰالی عنہما فرماتے ہیں: میں حضورﷺ کے ساتھ مکہ سے چلا۔ چلتے چلتے ہم عرب کے ایک قبیلہ کے پاس پہنچے۔ قبیلہ کے کنارے کے ایک گھر پر حضورﷺ کی نگاہ پڑی۔ حضور ﷺ وہاں تشریف لے گئے۔ جب ہم وہاں پہنچ کر سواریوں سے نیچے اُترے تو وہاں صرف ایک عورت تھی۔ اس عورت نے کہا: اے اللہ کے بندے! میں عورت ذات ہوں، میرے ساتھ اور کوئی نہیں ہے اکیلی ہوں،
آپ لوگ مہمان بننا چاہتے ہیں تو قبیلہ کے سردار کے پاس چلے جائیں۔ حضورﷺ نے اس کی یہ بات قبول نہ فرمائی بلکہ وہیں ٹھہر گئے۔ شام کا وقت تھا تھوڑی دیر میں اس عورت کا بیٹا اپنی بکریاں ہانکتاہوا آیا۔ اس عورت نے بیٹے سے کہا: اے بیٹے! یہ بکری اور چھری ان دو آدمیوں کے پاس لے جائو، اور ان سے کہو: میری والدہ کہہ رہی ہیں: یہ بکری ذبح کر کے آپ دونوں خود بھی کھائیں اور ہمیں بھی کھلائیں۔ جب وہ لڑکا آیا تو حضورﷺ نے اس سے فرمایا: چھری لے جائو اور(دودھ نکالنے کے لیے) پیالہ لے آئو۔ اس لڑکے نے کہا: یہ بکری تو چراگاہ سے دور رہی تھی اور اس کا دودھ بھی نہیں ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا: نہیں، تم جائو۔ وہ جاکر پیالہ لے آیا۔ حضورﷺ نے اس کے تھن پر ہاتھ پھیر کر دودھ نکالنا شروع کیا تو اتنا دودھ نکلا کہ ساراپیالہ بھر گیا۔ حضورﷺ نے فرمایا: جاکر اپنی والدہ کو دے آئو۔ چنانچہ اس کی ماں نے خوب سیرہوکر دودھ پیا۔ وہ پیالہ لے آیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا: یہ بکری لے جا اور دوسری بکری لے آ۔ وہ دوسری بکری لے آیا۔ حضورﷺ نے اس کا دودھ نکال کر مجھے پلایا۔ پھر وہ لڑکا تیسری بکری لے آیا، اس کا دودھ نکال کر حضورﷺ نے خود پیا۔پھر وہ رات ہم نے وہاں گزاری اور صبح وہاں سے آگے چلے۔ پھر اللہ نے اس کی بکریوں میں خوب برکت ڈالی اور وہ بیچنے کے لیے بکریوں کا ریوڑ لے کر مدینہ آئی۔ میرا وہاں سے گزر ہوا تو اس عورت کے بیٹے نے دیکھ کر مجھے پہچان لیا اور کہنے لگا: اے اماں جان!
یہ آدمی وہی ہے جو اس مبارک ہستی کے ساتھ تھا۔ وہ عورت کھڑی ہو کر میرے پاس آئی اور کہنے لگی: اے اللہ کے بندے! وہ مبارک آدمی جو تمہارے ساتھ تھا وہ کون تھا؟ میں نے کہا: اچھا! تمھیں معلوم نہیں کہ وہ کون ہیں؟ اس عورت نے کہا: نہیں۔ میں نے کہا: وہ تو نبی کریم ﷺ ہیں۔ اس نے کہا: مجھے اس کے پاس لے چلو۔ چنانچہ میں اسے حضور ﷺ کی خدمت میں لے گیا۔ حضورﷺ نے انھیں کھانا کھلایا، درہم ودینار دیے، اور ہدیہ میں اسے پنیر اور دیہاتیوں والا سامان دیا، پہننے کے کپڑے بھی دیے اور وہ مسلمان بھی ہوگئی



















































