اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

جگر گوشہ رسولؐ کا ذوق عبادت

datetime 18  اپریل‬‮  2017 |

سیدہ فاطمۃ الزہراؓ کے بارے میں آتا ہے سردیوں کی لمبی رات ہے۔ عشاء کی نماز پڑھ کر انہوں نے دو رکعت نفل کی نیت باندھ لی۔ قرآن میں ایسی لذت ملی، دل میں ایسی چاشنی تھی کہ قرآن پاک پڑھنے میں لطف آ رہا تھا۔ پڑھتی رہیں، پڑھتی رہیں۔ رکوع و سجود میں لطف آ رہا تھا، جی چاہتا ہی نہیں تھاکہ سجدہ سے سر اٹھائیں، چنانچہ جب دو رکعتیں مکمل کیں اور دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو دیکھاکہ سحری کا وقت ہونے والا ہے۔

رونے بیٹھ گئیں۔ کہنے لگیں۔ یا اللہ تیری راتیں کتنی چھوٹی ہو گئیں میں نے دو رکعت پڑھی اور تیری رات مکمل ہوئی۔ چنانچہ ان عورتوں کو راتوں کے چھوٹی ہونے کا شکوہ ہوا کرتا تھا۔
تیروں پر تیر کھاتے رہے مگر۔۔۔
مشہور روایت ہے کہ دو آدمیوں کی ڈیوٹی لگی کہ پہاڑ کی چوٹی پر تم جاؤ اور پہرہ دو۔ دونوں نے سوچا کہ دونوں جاگیں گے تو آخری رات میں سو جائیں گے۔ لہٰذا یہ طے پایا کہ ایک جاگے اور دوسرا سوئے۔ اب جاگنے والے نے یہ سوچا کہ میں جاگ ہی رہا ہوں تو کیوں نہ قرآن ہی پڑھ لوں۔ انہوں نے دو رکعت کی نیت باندھ لی، اتنے میں دشمن نے تیر مارا پھر دوسرا مارا۔ پھر تیسرا مارا۔ اب ان کے جسم سے خون نکل رہا ہے اور اتنا نکلا کہ ان کو ڈر محسوس ہوا کہ کہیں بے ہوش ہو کر گر گیا تو فرض منصبی میں کوتاہی ہو گی۔ لہٰذا جلدی سے سلام پھیر کر ساتھی کو جگاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر آج فرض منصبی میں کوتاہی کا ڈر نہ ہوتا تو میں تیروں پر تیر کھاتا رہتا لیکن مکمل سورہ کہف پڑھے بغیر نماز مکمل نہ کرتا ان کو تیر لگتے تھے اور ہمارے قریب سے مچھر گزر جائے یا مکھی آ کر بیٹھ جائے تو نمازی کی کیفیت چلی جاتی ہے۔ اس لیے کہ قرآن مجید سے ہم لطف اندوز ہو رہے ہوتے ہیں۔ جب لطف اندوز ہونا شروع کر دیں گے تب اس وقت ہمیں قرآن پڑھنے کا مزہ آئے گا۔

امام اعظم کا معمول
امام اعظمؒ بھی دوپہر کو قیلولہ کی نیت سے سو جاتے تھے اور باقی پورا وقت عبادت میں گزارتے تھے۔ یہ بات پہلے سمجھ میں نہیں آتی تھی لیکن ذکر کی لائن میں لگنے کے بعد بالآخر سمجھ میں آ گئی کہ ہمارے مشائخ کو ساری ساری زندگی عبادات کی توفیق کیسے مل جاتی تھی۔ اللہ تعالیٰ ان کی نیند کے وقت میں برکت دے دیتے تھے۔ چنانچہ تھوڑی دیر کی نیند ان کے جسم کو سکون دے دیتی تھی۔ ان کے نزدیک سونا برائے سونا تو ہوتا نہیں۔ نیند کا مقصد تو جسم کو راحت دینا ہوتا ہے کہ جسم تازہ ہو جائے۔ اور پھر کام میں لگ جائے اسی لیے حضرت مرشد عالمؐ اپنے آخری ایام میں فرمایا کرتے تھے اب میرے لیے دن اور رات کا فرق ختم ہو گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…