عمرو بن ہشام کا شمار مکہ کے انتہائی دانا لوگوں میں ہوتا تھا، اس کو اپنے آپ پر اتنا ناز تھا کہ سیدنا عمر فاروقؓ کا نام بھی عمر تھا، مگر وہ کہتا تھا کہ مجھے عمر کہناچاہیے اور آپ کو اسم تصغیر کا صیغہ استعمال کرنا چاہیے، چنانچہ مورخین نے لکھا ہے کہ حضرت عمرؓ کو ایمان لانے سے پہلے عمیر کہا جاتا تھا، وہ انہیں عمر نہیں کہلوانے دیتا تھا، وہ کہتا تھا کہ عمر میں ہوں،
وہ اتنا دانا تھا کہ جو معاملات لوگوں سے نہیں سمٹتے تھے وہ اکیلا سمیٹ دیتاتھا، اس لیے لوگوں نے اس کا نام ’’اباالحکم‘‘ (داناؤں کاباپ) رکھا اور جب اس نے دین کو قبول نہ کیا تو نبی کریمؐ نے اس کا نام ابوجہل رکھ دیا، یعنی تو جاہلوں کا باپ ہے۔دیکھیں کہ قابلیت اتنی کی وہ قریش کا سردار ہے اس کی پرسنلٹی (شخصیت) کتنی خوبصورت ہے، اس کے مال و دولت ہے، لوگ اس کے اشارے پرناچنے کو تیار ہیں مگر اللہ رب العزت کے یہاں قبولیت حاصل نہ ہوئی اور وہ اس دنیا سے ایمان کے بغیر رخصت ہو گیا۔
ابن عربی کا شیطان سے مکالمہ
ابن عربیؒ فرماتے ہیں کہ میری ایک مرتبہ شیطان سے ملاقات ہوئی تو مجھے کہنے لگا: ابن عربی! بڑے عالم ہو، میں نے کہا ہاں، کہنے لگا: میرے ساتھ آج مناظرہ کر لو، میں نے کہا: میں ہرگز نہیں کروں گا، کہنے لگا: کیوں؟ میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے تیرے لیے ایک ڈنڈا دیا ہے جس کا نام ہے، لاحول ولا قوۃ الا باللہ، میں یہ ڈنڈا استعمال کرکے تجھے یہاں سے دور بھگا دوں گا، مجھے تجھ سے بحث میں پڑنے کی ضرورت ہی نہیں، اور واقعی اگر وہ بحث میں پڑ جاتے تو شیطان ان کے دلائل کو توڑ کر شاید ان کو کسی برے پوائنٹ پر لے آتا۔



















































