مولانا یحییٰ ؒ جو حضرت شیخ الحدیثؒ کے والد تھے، ان کا ایک عجیب واقعہ ہے، جب گرمیوں کے موسم میں عصر کے وقت مدرسے سے چھٹی ہوتی تھی تو وہ ایک کنویں پر لے جاتے تھے، وہاں جا کر بیٹھ جاتے اور طالب علموں کو کہتے کہ میرے اوپر ڈول بھر بھر کر ڈالتے جاؤ، یوں سینکڑوں ڈول پانی ڈلواتے۔حضرتؒ کا ایک ہمسایہ تھا، وہ ایک دن کہنے لگا: ’’مولانا! ہمیں تو کہو اسراف ہووے، خود کرتے جاؤ‘‘
یعنی مولانا! ہمیں تو آپ کہتے ہیں کہ یہ اسراف اور فضول خرچی ہے اور خود سینکڑوں ڈول ڈلواتے رہتے ہیں، یہ بھی تو اسراف ہے، تو وہ چونکہ قریبی بھی تھا اور بے تکلفی بھی تھی، اس لیے حضرت جواب دیتے تھے، یہ میرے لیے جائز اور تیرے لیے حرام۔چنانچہ ایک دن وہ کہنے لگا: مولانا! مجھے یہ بات آپ سمجھا دیں کہ آپ کے لیے کیسے جائز ہے اور میرے لیے کیسے حرام ہے؟ایک دن منت کرنے لگا: مولانا! آج تو آپ یہ مسئلہ سمجھا ہی دی، تو پھر مولانا نے اس کو بات سمجھائی اورپوچھا: اچھا! جب تم کنویں پر آتے ہو تو کس نیت سے آتے ہو؟ اس نے کہا: جی! نہانے کی نیت سے آتاہوں، فرمایا: پھر تیرے لیے یہی حکم ہے کہ پانچ ڈول سے نہاؤ اور پھر چلے جاؤ، اس سے زیادہ کرو گے تو اسراف ہو گا، اس نے پوچھا: آپ کیا کرتے ہیں؟ فرمانے لگے: میں تو بیمار آدمی ہوں، اس لیے گرمی کے موسم میں ٹھنڈک حاصل کرنے کی نیت سے آتا ہوں، چنانچہ اس طرح ایک ہزار ڈول بھی ڈال دو تو میرے لیے جائز ہو گا۔
کنگھی بھی نیت کے ساتھ
سلف صالحین ہر عمل سے پہلے نیت کو درست کرتے تھے، روایت ہے کہ ایک آدمی گھر کی چھت پر بیٹھا بال بنارہا تھا کہ اس نے بیوی کو آواز دی کہ میری کنگھی لانا، بیوی نے پوچھا کہ آئینہ بھی لے آؤں،
وہ تھوڑی دیر خاموش رہا پھر کہا: ہاں! بیوی نے پوچھا کہ آپ خاموش کیوں رہے اور آئینے کے بارے میں توقف کیوں کیا؟ اس نے کہا کہ میں نے ایک نیت کے ساتھ آپ کو کنگھی لانے کے لیے کہا تھا، جب آپ نے آئینے کے متعلق پوچھا تو میری کوئی نیت نہ تھی، میں نے توقف کیا حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے نیت عطا فرمائی۔



















































