شیخ الحدیث مولانا زکریاؒ نے فضائل درود شریف میں لکھا ہے کہ ایک آدمی رات کو سونے سے پہلے روزانہ درود شریف پڑھا کرتا تھا، ایک رات خواب میں اسے نبی کریمؐ کی زیارت نصیب ہوئی، اللہ کے محبوبؐ نے ارشاد فرمایا، اپنا منہ میرے قریب کرو جس سے تم مجھ پر درود پڑھتے ہو، میں اس کا بوسہ لینا چاہتا ہوں، اس نے اپنا رخسار نبی کریمؐ کے قریب کر دیا،
چنانچہ اللہ کے محبوبؐ نے اس کے چہرے کا بوسہ لیا اور اس کی آنکھ کھل گئی، جیسے ہی آنکھ کھلی پورا گھر مشک کی خوشبو سے مہک رہا تھا، اس کے بعد آٹھ دن تک اس کے رخسار سے مشک کی خوشبو آتی رہی۔
پگھلتی برف سے عبرت
ایک بزرگ فرماتے تھے کہ میری ہدایت کا سبب ایک برف والابنا، کہنے لگے کہ وہ کیسے ؟ کہ میں بازار میں سے گزر رہا تھا کہ ایک بندہ تھا جو برف بیچتا تھا، تو موسم ذرا ابر آلود سا ہو گیا اور برف لینے والے گاہک ذرا تھوڑے تھے، توکہنے لگے میں نے اسے دیکھا وہ بڑا پریشان سا کھڑا ہے، آنے جانے والے لوگوں کے چہرے دیکھ رہا ہے کہ ان میں سے کوئی بھی برف خریدنے والا نہیں، تو جب کچھ دیر وہ اس طرح کھڑا رہا تو رہ نہ سکا اور اس نے اونچی آواز سے کہا کہ لوگو! رحم کرو اس شخص پر جس کا سرمایہ پگھل رہاہے، تو وہ کہتے ہیں کہ اس فقرے کو سن کر میرے دل میں احساس ہوا کہ اگر اس کا سرمایہ پگھل رہا ہے اور اس کو اتنی فکر لگی ہوئی ہے تو ہمارا وقت بھی برف کے مانند پگھل رہا ہے۔
روشن دان بنانے کی نیت
ایک بزرگ تھے، ان کے ایک شاگرد نے ان کو ایک مرتبہ اپنے گھر دعا کے لیے بلایا، وہ تشریف لے گئے،
جب انہوں نے گھر دیکھا تو انہوں نے اس سے پوچھا کہ تو نے یہ کیا بنایا ہواہے؟ کہنے لگا: جی یہ روشن دان بنایا ہے، پوچھا کہ کیوں بنایا ہے؟ کہنے لگا کہ حضرت! اس لیے بنایا ہے کہ اس میں سے روشنی بھی آئے گی اور ہوابھی آئے گی، تو حضرت نے اس کو بات سمجھائی اور فرمایا: آپ نے یہ کہا کہ میں نے یہ روشن دان اس لیے بنایا کہ اس سے ہوا بھی آئے گی اور روشنی بھی آئے گی، اگر آپ یہ جواب دیتے کہ میں نے روشن دان اس لیے بنایا کہ مجھے اس میں سے اذان کی آواز آیا کرے گی تو تمہارا روشندان بنانا عبادت بن جاتا، ہوااور روشنی تو تمہیں ویسے ہی مل جانی تھی، تو پتہ چلا کہ ہر عمل میں نیت کو ٹھیک کرناہے۔



















































