مولانا عبدالماجد دریا آبادیؒ اپنے بارے میں بتایا کرتے تھے کہ جب میں تھوڑا سا بڑا ہوا تو میرے گھر میں قرآن مجید شروع کرنے کی تقریب ہوئی، اس زمانے میں اس کو ’’رسم بسم اللہ‘‘ کہا جاتا تھا اور یہ دو رسمیں بڑے اہتمام سے منائی جاتی تھیں، ایک ’’رسم بسم اللہ‘‘ قرآن مجید شروع کروانے سے پہلے اور ایک ’’رسم آمین‘‘ جب قرآن مجید ختم ہوا کرتا تھا، اس زمانے کی یہ تقریبات ہوا کرتی تھیں۔
کہنے لگے کہ امی نے مجھے نہلایا، بہن نے مجھے اچھے کپڑے پہنائے، خوشبو لگائی خوب سجا دیا گیا، گھر کے اندر رشتہ داروں کو بلایا گیا، سب نے اچھے کپڑے پہنے ہوئے ہیں، مٹھائی کا انتظام کیا ہوا ہے، حتیٰ کہ ایک قاری صاحب کو بھی بلا لیاگیا، جنہوں نے آ کر مجھے بسم اللہ پڑھانی تھی۔اب جب سارے لوگ خوشیوں کے ساتھ اکٹھے میری طرف متوجہ ہوئے، حتیٰ کہ گھر کی عورتیں وہ بھی پردے کے پیچھے لگ گئیں اور خوش ہو رہی ہیں کہ بچہ آج اللہ کا قرآن شروع کرے گا، چنانچہ قاری صاحب نے مجھے کہا کہ بچے! پڑھو! بسم اللہ، کہنے لگے ’’مجھے ایسی چپ لگ گئی کہ میں نے کچھ بھی نہ پڑھا، بار بار قاری صاحب کہہ رہے ہیں، حتیٰ کہ مجھے والد صاحب نے کہا، دوسروں نے کہا، مگر ماحول کچھ ایسا تھا کہ مجھے چپ ہی لگ گئی اور میں بولنے پر آمادہ ہی نہ ہوا، بہت سمجھایا گیا حتیٰ کہ دس پندرہ منٹ خوب منتیں کی گئیں لیکن میں نہ بولا، چپ لگی ہوئی تھی حتیٰ کہ لوگ اٹھ گئے کہ چلو جی اگر نہیں پڑھتے تو کوئی بات نہیں، عورتوں کے دلوں کے اندربھی اداسی آ گئی کہ بچے نے اس موقع پر نہیں پڑھا، والد کو غصہ آیا تو والد نے مجھے پھر ایک تھپڑ بھی لگا دیا، جب سب تجھے کہہ رہے ہیں کہ پڑھو تو پڑھ کیوں نہیں رہے ہو؟ کہنے لگے: میں نے تھپڑ بھی کھا لیا اور آنسو بھی بہا لیے، پڑھا پھر بھی نہیں۔
خیر کیا ہوا کہ میرے ایک قریبی رشتہ دار تھے جو بڑے ہی سمجھ دار تھے، انہوں نے مجھے اٹھالیا اور کہا کہ کیوں روتے ہو؟ کوئی بات نہیں، رو نہیں، وہ مجھے اٹھانے کے بعد تھوڑا ادھر ادھر لے گئے، مجھ سے باتیں کرتے رہے، باتیں کرنے کے بعد مجھے کہنے لگے: ارے میاں! تمہارے اندر اتنی ہمت ہی نہیں کہ تم دو لفظ پڑھ دو، کیا تمہیں بے وقوف کہیں تو یہ تمہیں اچھا لگے گا؟ میں نے کہا: نہیں، میں گندا بچہ تو نہیں ہوں،
انہوں نے کہا کہ گندے بچے نہیں ہو تو پھر ان کو پڑھ کر سنا دو! کہ تم بسم اللہ پڑھنا جانتے ہو، کہنے لگے: جب انہوں نے مجھے اس طرح صحیح انداز میں ڈیل کیا تو میں نے اتنے زور سے بسم اللہ پڑھی کہ قاری صاحب تو کیا، گھر میں بیٹھنے والی عورتوں نے بھی بسم اللہ کی آواز سنی۔تو اب دیکھئے! کہ ہے تو بچہ، لیکن اگر اس کو تھپڑ مارا تو اس کو چپ لگی ہوئی تھی، اور پیار کے ساتھ اس کو ڈیل کیا تو اس نے اتنا اونچا پڑھا کہ دیوار کے پار بھی اس کی آوازیں جانے لگ گئیں۔



















































