اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

قوتِ حافظہ کی انوکھی مثال

datetime 18  اپریل‬‮  2017 |

امام بخاریؒ کے بارے میں آتا ہے کہ ان کی قوت حافظہ ایسی تھی کہ لاکھوں حدیثیں ان کو یاد تھیں، چنانچہ امام بخاریؒ جب بغداد تشریف لے گئے تو اہل بصرہ نے ان کا استقبال کیا اور پورے شہر کے لوگ نکل کر باہر آ گئے، استقبال کرنے کے بعد انہوں نے آپ کو ایک محفل میں بٹھایا، ذرا توجہ سے سننا!انہوں نے پہلے پلاننگ بنائی کہ یہ حافظ الحدیث ہیں، ہم ان کو پرکھیں گے کہ یہ کیسے حافظ ہیں،

انہوں نے دس بندوں کو تیار کیا اور ہر بندے نے دس احادیث یاد کرلیں، مگر کہیں متن میں اور کہیں سند میں ہر حدیث میں فرق ڈال دیا، اچھا! جب کسی کا تعارف کرایا جائے کہ یہ حافظ الحدیث ہیں، اور اس سے کہا جائے کہ حدیث سناؤ تو اس کا دل تو چاہتا ہے کہ جومجھے کہا جائے سب آتا ہو، پہلے تو ان لوگوں نے اتنے بڑے مجمع میں امام بخاریؒ کا تعارف کرایا کہ جی، بڑے امام ہیں، حافظ ہیں، لاکھوں حدیثیں یاد ہیں، انہوں نے خوب تعریفیں کیں، اس کے بعد ایک بندہ کھڑا ہوا کہ جی! مجھے کچھ حدیثیں پہنچی ہیں، ذرا سنیں! آپ کو پہنچی ہیں کہ نہیں؟ چنانچہ اس نے پہلی حدیث پڑھی مگر اس حدیث کی سند میں یا متن میں کہیں فرق تھا، اس نے پڑھ کرپوچھا کہ آپ کو یہ حدیث پہنچی ہے؟ امام بخاریؒ نے فرمایا: لا، اب ایک کو تو بندہ کہہ سکتا ہے لا، اس نے دوسری پڑھی، فرمایا: لاء، اس نے تیسری پڑھی فرمایا، لا۔ چوتھی پڑھی، فرمایا: لا، اب عام بندہ تو سمجھے گا کہ واہ بھئی واہ! یہ کیسے حافظ حدیث ہیں کہ جو پوچھتے ہیں، آگے سے لا، اسے تو کچھ نہیں آتا، پھر دوسرے نے پوچھا۔۔۔ تیسرے نے پوچھا۔۔۔ دس بندوں نے سو حدیثیں پوچھیں، انہوں نے سب کے جواب میں ’’لا‘‘ کہا، پتہ ہے ان پر کتنا نفسیاتی بوجھ پڑا ہو گا!!! اللہ اکبر، بہت بڑا امتحان تھا، مگر وہ ’’لا‘‘ کہتے رہے۔جب سب بندوں کے جواب میں لا کہا تو اس کے بعد امام بخاریؒ نے فرمایا: بھئی دیکھو! آپ حضرات نے جو حدیثیں پوچھی ہیں نا!

اب ذرا سنو! تو امام بخاری نے پہلی حدیث پڑھی جو اس بندے نے غلط متن یا سند کے ساتھ پڑھی تھی اور پھر فرمایا کہ اس بندے نے اس حدیث میں یہ غلطی کی ہے، پھر فرمایا کہ مجھے یہ حدیث یوں پہنچی ہے، کتابوں میں لکھا ہے کہ امام صاحب نے ان کے غلط متن یا سند کی جو روایات تھیں، سو کی سو اسی ترتیب کے ساتھ پہلے سنائیں اور ساتھ ساتھ ہر حدیث صحیح متن و سندکے ساتھ سناتے گئے، علماء فرماتے ہیں کہ سو حدیثوں کو یاد کر لینا یا سنا دینا امام صاحب کے لیے کوئی بڑی بات نہیں تھی، حیران کن بات تو یہ تھی کہ پوچھنے والوں نے جو خلط ملط کرکے پوچھا تھا، ان سے ایک ہی دفعہ سن کر ان کی بھی سو باتیں یاد رہ گئیں اور ترتیب بھی وہی رکھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…