ہم نے ایک جگہ ہاتھیوں کا فٹ بال میچ دیکھا، ہاتھیوں کی ایک ٹیم ادھر ہے اور ایک ٹیم ادھر ہے، گیند بھی کوئی چھوٹا سا نہیں تھا، یوں سمجھیں کہ تقریباً آٹھ فٹ ڈایا میٹر کا ہو گا، وہ ہاتھی سونڈ سے اس کو کیک لگا رہے تھے، اور ایک ہاتھی ادھر گول پہ کھڑا ہے اور ایک ہاتھ ادھر گول پہ کھڑا ہے،
باقاعدہ گیم ہوئی اور ہم نے ہاتھی کو گول کرتے ہوئے دیکھا، ہم حیران تھے کہ یا اللہ! اس انسان کو آپ نے عقل والی کیا نعمت دی کہ جس کے ذریعہ اس نے جانوروں کو بھی یہ کچھ سکھا ڈالا!
ہاتھی کی پینٹنگ
ایک جگہ ہم نے دیکھا کہ انہوں نے ہاتھی کو پینٹنگ سکھائی ہوئی تھی، انہوں نے نو دس کلر رکھے ہوئے تھے، میٹر بائی میٹر کی شیٹس بھی رکھی ہوئی تھیں، دس ڈالر کی ایک شیٹ ملتی تھی،وہ اس شیٹ پر ہاتھی سے پینٹنگ کروا کے دیتے تھے، جب کوئی آدمی آ کر کہتا کہ مجھے اس کلر کی پینٹنگ چاہیے تو اس کو کنٹرول کرنے والا آدمی برش کو رنگ میں ڈبو کر سونڈ میں پکڑا دیتا، ہاتھی سونڈ میں برش پکڑ کر اتنی صفائی سے اس کا شیڈ دیتا کہ لگتا تھا اس نے فائن آرٹس میں ماسٹر ڈگری لی ہوئی ہے، چند مرتبہ شیڈ دینے سے اتنی خوبصورت پینٹنگ تیار ہوتی تھی کہ لوگ خرید کر لے جاتے تھے اور ہاتھی کی پینٹنگ اپنے گھروں میں سجاتے تھے۔



















































