حضرت مولانا محمد انعام الحق قاسمی کہتے ہیں کہ مجھے 1984ء میں امریکہ جانے کا موقع ملا وہاں پر ایک کانفرنس ہوئی جس میں وہاں کی کمپنیوں کو اپنے اپنے سامان کی نمائش کرنا تھی، وہاں ہمارے ایک دوست تھے، انہوں نے کہا، حضرت! اگر آپ بھی وہ نمائش دیکھنا چاہیں تو میں آپ کا بھی کارڈ بنوا لیتا ہوں، میں نے کہا، بہت اچھا، چنانچہ انہوں نے انجینئر کی حیثیت سے میرا بھی کارڈ بنوا دیا،
اس طرح میرے لیے بھی وہاں پہنچنا آسان ہو گیا، اس زمانے میں وضع قطع میں ہم وہاں جاتے تھے تو لوگ سمجھتے تھے کہ شاید یہ کسی ملک کے بادشاہ ہیں، چنانچہ لوگوں نے ہمیں متعدد جگہ پر روک کر پوچھا کہ یہ کس ملک کے بادشاہ ہیں، ہمارے دوست شوق میں ان کو کہہ دیتے تھے کہ روحانیت کی دنیا کے بادشاہ ہیں اور وہ سمجھتے تھے کہ ’’روحانیت‘‘ کسی ملک کا نام ہے، جب ہم اندر گئے تو وہاں تو ایک نئی دنیا تھی، ہم نے وہاں ایک بندے کو دیکھا، وہ سکرین کے پاس بیٹھا تھا، وہ کہہ رہا تھا کہ سڑک پر جتنی گاڑیاں چل رہی ہیں ہم ان چلتی گاڑیوں کی ڈگی میں پڑے ہوئے سامان کی تصویر آپ کو دکھا سکتے ہیں۔۔۔ یہ 1984 کی بات ہے، سنی سنائی بات نہیں کہہ رہا بلکہ آپ بیتی بات کر رہا ہوں۔۔۔ میں نے کہا، جی آپ مجھے دکھائیں، اس نے کہا کہ دیکھئے یہ ہمارا ہائی وے ہے اور اس میں یہ ٹریفک چل رہی ہے، آپ جس چلتی گاڑی پر انگلی رکھیں گے اس کی تصویر آپ کے سامنے آ جائے گی، میں نے ایک سرخ رنگ کی گاڑی کے اوپر انگلی رکھی تو جیسے ائیرپورٹ پر سامان کی تصویر نکالتے ہیں اسی طرح اس گاڑی کے اندر پڑے ہوئے پورے سامان کی تصویر سکرین پر نظر آنے لگی۔۔۔ یہ کیا چیز ہے؟۔۔۔ یہ علم الابدان ہے۔۔۔ مادیت پر محنت کرنے والے دور کی چیزوں کو تاک جھانک سکتے ہیں اور کسی خطرناک مادہ کا پتہ چلا سکتے ہیں، ہم کس قدر غفلت میں کہ اپنے اندر جھانک کر خطرناک مادہ کا پتہ نہیں چلاتے کہ کون کون سے باطنی امراض اندر چھپے ہیں؟



















































