ان دونوں حضرت میں شدید علمی اختلاف تھا اس کے باوجود دونوں حضرات میں ادب و احترام کے عجیب مناظر دیکھے گئے، ایک بار حضرت زیدؓ کہیں سے تشریف لا رہے تھے تو ابن عباسؓ نے ان کی سواری کی رکاب تھام لی اور ساتھ ساتھ چلنے لگے، حضرت زیدؓ نے کہا: اے فرزند عم رسولؐ آپ رکاب چھوڑ دیں اور ایسا نہ کریں، حضرت ابن عباسؓ نے کہا کہ ہمیں یہی سکھایا گیا کہ علماء اور بڑوں کی تعظیم کریں،
اس پر زیدؓ نے کہا: آپ اپنا ہاتھ آگے بڑھائیں، حضرت ابن عباسؓ نے ہاتھ آگے بڑھایا تو حضرت زیدؓ نے چوم لیا اور فرمایا کہ ہمیں اہل بیت نبیؐ کے ساتھ ایسا ہی کرنے کاحکم ہے۔جب حضرت زیدؓ کا انتقال ہوا تو ابن عباسؓ نے نہایت افسردہ لہجے میں کہا ’’علم اس طرح رخصت ہوتا ہے‘‘ دوسری روایت میں ہے کہ علم کا جانا اس طرح ہوتا ہے، آج علم کا بہت زیادہ حصہ دفن ہو گیا۔
حضرت علیؓ اور حضرت امیر معاویہؓ کا اختلاف
حضرت علیؓ اور حضرت امیر معاویہؓ کے درمیان قصاص عثمانؓ پر سخت اختلاف ہوا، حتیٰ کہ بعض غلط فہمیوں کی وجہ سے آپس میں جنگ بھی ہوئی۔ایک آدمی نے حضرت علیؓ سے جنگ جمل کے مخالفین کے متعلق سوال کیا کہ وہ مشرک ہیں؟ آپؓ نے جواب دیا، نہیں وہ شرک سے دور ہیں۔اس نے پوچھا: کیا وہ منافق ہیں؟ آپؓ نے فرمایا کہ نہیں، منافق اللہ کو کم یاد کرتے ہیں، سائل نے پوچھا، پھر وہ کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا: وہ ہمارے بھائی ہیں، جنہوں نے ہم سے اختلاف کیا۔*۔۔۔ ابو صالح نے کہا کہ ایک روز ضرار اربن ضمرہ کنانی حضرت امیر معاویہؓ کے پاس آئے تو آپؓ نے فرمایا: ہم سے علیؓ کے کچھ اوصاف بیان کرو، انہوں نے کہا کہ امیر المومنین مجھے معاف رکھیں، آپ نے اصرار کیا، تو انہوں نے کہا:’’باخدا! وہ ایک بلند نظر دور اندیش اور طاقتور انسان تھے،
ان کی بات فیصلہ کن اور حکم عادلانہ ہوتا تھا، ان کے اطراف و جوانب سے علم و حکمت کے چشمے پھوٹتے تھے، دنیا کی رنگینیوں سے دور رہ کر رات کی تاریکیوں سے مانوس رہتے تھے، واللہ وہ بہت گریہ و زاری کرنے والے تھے، ہر وقت سوچ میں غرق رہتے تھے، اپنی ہتھیلیاں الٹتے پلٹتے اور اپنے آپ سے باتیں کرتے تھے، معمولی لباس اور معمولی کھانا پسند کرتے تھے۔باخدا! وہ ہمیں اپنے جیسے آدمی نظر آتے،
جب ہم ان کے پاس جاتے تو وہ ہمیں قریب رکھتے اور ہماری باتوں کا جواب دیتے، لیکن اتنا قریب ہونے کے باوجود ان کا رعب اتنا ہوتا تھا کہ ہم ان سے بات نہ کر سکتے تھے، وہ مسکراتے توموتیوں جیسے دانت نظر آتے، وہ دین داروں کی تعظیم کرتے، فقراء و مساکین سے محبت کرتے تھے، کوئی طاقت آدمی ان سے غلط کام کروانے کی سوچ بھی نہیں سکتا تھا اور کوئی کمزور آدمی ان کے عدل سے مایوس نہ ہوتا تھا،
میں خدا کو حاضرناظر سمجھ کر کہتا ہوں کہ شب کی تاریکیوں میں انہیں میں نے دیکھا کہ محراب کے اندر اپنی داڑھی پکڑے ہوئے اس بے چینی سے تڑپ رہے ہیں، جیسے انہیں کسی بچھو نے ڈنک مار دیا ہو اور کسی غمزدہ اور ستم رسیدہ شخص کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رو رہے ہیں، مجھے ایسے محسوس ہو رہا ہے کہ ان کی آواز میرے کانوں میں گونج رہی ہے، اے میرے پروردگار! اے میرے پالنہار! اللہ تعالیٰ کے حضور وہ گریہ کرتے تھے اور دنیا سے مخاطب ہو کر فرمایا کرتے،
تم میرے پاس آرہی ہو، تم مجھ پر نظریں جما رہی ہو، افسوس! افسوس! جاؤ کسی اور کو دھوکا دو، میں نے تمہیں تین طلاقیں دے دی ہیں، اے دنیا تمہاری عمر مختصر، تمہاری محفل ذلیل و حقیر اور تمہارا فائدہ بہت کم ہے، آہ آہ آہ!! توشۂ راہ کتنا قلیل، سفر کتنا طویل اور راستہ کتنا وحشت ناک ہے۔یہ سن کر حضرت امیر معاویہؓ اپنے آنسو ضبط نہ کر سکے، ان کی داڑھی آنسوؤں سے تر ہو گئی، جسے وہ آستین سے پونچھتے رہے، حاضرین مجلس کی بھی روتے روتے ہچکی بندھ گئی، حضرت امیر معاویہؓ نے کہا: ابوالحسنؓ ایسے ہی تھے، اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے۔



















































