(1)۔ خطیبؒ نے کفایہ میں نقل کیا ہے کہ مشہور حافظ حدیث حماد بن سلمہ کا ایک شاگرد کافی امیر تھا، اس نے ایک مرتبہ آپ کو کافی چیزیں بطور ہدیہ پیش کیں، حضرت حمادؒ نے فرمایا دو باتوں میں سے ایک کو قبول کر لو، چاہو تو آپ کے یہ تحائف قبول کر لوں، مگر آج کے بعد تمہیں حدیث نہیں پڑھاؤں گا، اور اگرچاہتے ہو کہ تمہیں حدیث پڑھاؤں تو پھر یہ ہدیہ قبول نہ کروں گا۔
(2)۔ ابو عبدالرحمن سلمیؒ کی خدمت میں عمر بن حریثؒ نے کچھ اونٹ بطور ہدیہ پیش کیے، انہوں نے یہ کہہ کر واپس کر دیے کہ ہم نے تمہارے لڑکے کو قرآن پڑھایاہے، کتاب اللہ پر اجرت لینا مناسب نہیں۔(3)۔ حدیث کے مشہور راوی زکریا عدیؒ کے متعلق لکھا ہے کہ ایک دفعہ ان کی آنکھیں دکھنے لگیں، ایک شخص سرمہ لے کر حاضر ہوا، پوچھا کیا تم مجھ سے حدیث پڑھتے ہو، اس نے کہا جی ہاں! فرمایا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ میں حدیث پڑھانے پر اجرت لوں؟(4)۔ ایک مرتبہ حضرت مولانا مرتضیٰ حسنؒ نے حضرت حکیم الامت سے عرض کیا کہ حضرت تنخواہ لینے میں میری طبیعت کو الجھن ہوتی ہے، یہ تو صاف دین فروشی ہے، حکیم الامتؒ نے جواب دیا کہ تنخواہ لینی چاہیے، کیونکہ اس سے طبیعت پر بوجھ رہے گا کہ کام اچھی طرح کرنا چاہیے، مولانا نے عرض کیا، یہ تو ہوئی مصلحت، مگر اس ضرر کا کیا علاج ہے کہ اس میں دین فروشی ہے، حکیم الامتؒ نے جواب دیا کہ تنخواہ میں دین فروشی ہے یا نہیں، اس کی بہترین پہچان یہ ہے کہ اگر کسی جگہ گزارہ کی تنخواہ ملتی ہے مگر کسی جگہ زیادہ کی صورت نظرآئی، مگر دینی خدمت کا موقع زیادہ نہیں تو اگر پہلی جگہ کو چھوڑ کر دوسری جگہ چلا جائے گا تو دین فروشی ہو گی۔(5)۔ حضرت مولانا ادریس کاندھلویؒ ریاست بہاولپور میں بہت زیادہ مشاہرہ پر کام کر رہے تھے،
حضرت مفتی محمد حسن صاحبؒ بانی جامعہ اشرفیہ نے خط لکھا کہ حضرت آپ امیروں کی بریانی تو کھاتے رہتے ہیں، ہم فقیروں کی دال قبول فرمائیے، حضرت کاندھلویؒ نے بغیر کسی تفصیل معلوم کیے وہاں استعفیٰ پیش کیا اور بقیہ زندگی جامعہ اشرفیہ میں دینی خدمت کرتے کرتے گزار دی۔(6)۔ حضرت نانوتویؒ کی خدمت میں ایک شخص نے ہدیہ پیش کیا آپ نے معذرت کر دی، اس نے بہت اصرار کیا لیکن حضرت نانوتویؒ بھی انکار کرتے رہے،
جب اس نے دیکھا کہ کوئی تدبیر کارگر نہیں ہوئی تو واپس گھر جانے لگا، جب مسجد سے باہر نکلنے لگا تو اس کی نظر حضرت نانوتویؒ کے جوتوں پر پڑی اس نے وہ تمام رقم حضرت کے جوتوں میں چھپا دی، دل میں یہ خیال تھا کہ جب حضرت گھر جانے کے لیے جوتے پہنیں گے تو رقم خواہ مخواہ قبول کرنا پڑے گا، جب حضرتؒ مسجد سے باہر نکلے اوررقم جوتے میں پڑی دیکھی تو حضرت مسکرائے اور فرمایا کہ جو آدمی دنیا کو دور دھکیلتا ہے دنیا اس کے جوتوں میں ذلیل و خوار ہو کر آتی ہے، پہلے یہ بات کتابوں میں پڑھتے تھے آج الحمدللہ آنکھوں سے بھی دیکھ لیا۔



















































