محمد بن سحنون مالکیہ مذہب کے بڑے امام گزرے ہیں، ان کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا، کھانا نہیں کھایا اپنے مطالعہ میں لگے ہوئے تھے، باندی تھی، اس کا نام تھا، ام مدام، وہ بار بار آ کے پوچھتی میں کھانا لے آؤں، میں کھانا لے آؤں، اور یہ کہتے تھوڑا صبر کر لو، صبر کر لو میں اور مطالعہ کر لوں، تو ایک مرتبہ پھر اس نے کہا کہ اگر آپ کے پاس کھانے کی فرصت نہیں تو میں لقمے آپ کے منہ میں ڈال دیتی ہوں،
کہنے لگے بہت اچھا، وہ لقمہ منہ میں ڈال دیتی چبا لیتے مگر مطالعہ کرتے رہے، اس قدر مطالعے کے اندر (Obsorve) تھے کہ جب صبح کے وقت مطالعہ ختم کیا اور ام مدام کو کہا کہ کھانا لاؤ تو اس نے کہا جناب کھانا تو میں آپ کو کھلا چکی کہنے لگے مجھے پتہ ہی نہیں چلا۔
طلبہ کے لیے رہنما مثال
امام ثعلبؒ کے بارے میں آتا ہے کہ یہ راستہ چلتے ہوئے بھی مطالعہ کیا کرتے تھے، سڑک کے کنارے چلتے تھے اور کتاب ہاتھ میں ہوتی تھی اور پڑھتے ہوئے چلتے تھے، ان کو اردگرد کی ٹرافک کا اور لوگوں کا کچھ پتہ نہیں ہوتا تھا، ان کی وفات بھی ایسے ہوئی کہ مطالعہ کرتے کرتے جا رہے تھے، گھوڑے نے ٹکر مارا، آگے گڑھا تھا پتہ نہ چلا اور گڑھے کے اندر جا گرے اور بے ہوش ہو گئے، اسی حال میں ان کو گھر لے گئے اور گھر پہنچ کر وفات ہوئی۔
ابن جوزیؒ کے حالات
ابن جوزیؒ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی زندگی میں بیس ہزار کتابوں کا مطالعہ کیا ہو گا اور اپنی انگلیاں دکھاتے تھے اور فرماتے تھے کہ ان انگلیوں سے میں نے دین کے اوپردو ہزار کتابیں لکھی ہیں،
ان کی دو باتیں بڑی عجیب ہیں، ایک تو یہ کہ لکھتے رہتے تھے اور جیسے ہی قلم خراب ہوتی تھی اور اس کو بنانے کا وقت آتا تھا تو اس وقت میں ذکر شروع کر دیتے تھے کہ میرا قلم بنانے کا وقت بھی غفلت میں نہ گزرے، اب سوچئے کہ یا تو لکھنے میں مصروف ہے اور جیسےہی قلم بنانے لگتے تو ذکر میں مشغول ہو جاتے کہ میرے اس وقت میں بھی میرے نامۂ اعمال میں نیکی لکھی جائے اور جو قلموں کا چورا تھا اس کو جمع کرتے رہتے تھے کئی من چورا بن گیا تو وصیت فرمائی کہ جب مجھے موت آئے تو میرے غسل کا پانی اس سے گرم کیا جائے۔



















































