اس عاجز کی طرف سے دو بات طلبہ بطور تحفہ سمجھیں۔(1)۔۔۔ اس عاجز نے بعض بزرگوں کا معمول پڑھا اور پھر اس کو آزما کر دیکھا کہ جس آدمی کو علم کے بارے میں شرح صدر نہ ہو رہا ہو، یعنی وہ پڑھتا ہو اور بھول جاتا ہو، اس کے لیے یاد رکھنا مشکل ہوتا ہو اور اس کی علم کے ساتھ مناسبت پیدا نہ ہو رہی ہو اور وہ اس امر کو کر لے تو انشاء اللہ اسے شرح صدر نصیب ہو جائے گا۔
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ ایک مرتبہ پوری رات یہ آیت پڑھتے گزار دی۔۔۔ قل رب زدنی علما۔۔۔ وہ اس آیت کو پوری رات دہراتے رہے، اسی مناسبت سے وہ عمل یہ ہے کہ جب طالب علم رات کو تہجد پڑھے اور اسے اس آیت سے آگے پیچھے کی اتنی آیت یاد ہو جس سے نماز کے اندر مسنون قرأت ہو سکے، پڑھ لے اور ہر رکعت میں اس آیت کو اپنے ذوق کے مطابق جتنی مرتبہ پڑھنا چاہے پڑھے، اس میں تعداد کی تعین نہیں ہے، اگر وہ اس طرح تہجد میں اس آیت کا چند دنوں تک بار بار ورد کرے گا تو اس کی برکت سے اللہ تعالیٰ اسے شرح صدر عطا فرما دیں گے اور اس کا سینہ علم کے لیے کھل جائے گا۔(2)۔۔۔ ایک دوسرا عمل بھی ہے کسی بزرگ نے اس عاجز کو اس کی اجازت دی تھی اور آج آپ لوگوں کو اس کی اجازت دے دیتے ہیں ، فائدہ اٹھائیں۔اکثر طلبہ اور طالبات کو حافظے کے کمزوری کی وجہ سے اسباق میں مشکل پیش آتی ہے، وہ خود یا ان کے ماں باپ روزانہ ہر نماز کے بعد سورۂ الم نشرح پڑھ کر ان کے سینے پر پھونک مار دیا کریں، اول آخر ایک ایک مرتبہ درود شریف بھی پڑھیں، اگر بچے سمجھدار اور بڑے ہوں تو جب بھی پڑھنے بیٹھیں، پیپر دنے بیٹھیں، لیکچر سننے بیٹھیں یا استاد کا درس سننے بیٹھیں تو یہ پوری سورۃ پڑھ کر اپنے سینے پر پھونک مار دیں،
جو آدمی اس کو اپنا معمول بنا لے گا اللہ تعالیٰ اس کا حافظہ قوی فرما دیں گے، اس عاجز نے اس عمل کو ہزاروں دوستوں پر آزمایا ہے۔*۔۔۔ ایک اسٹوڈنٹ نے بتایا کہ وہ ایک سال میٹرک میں فیل ہو گیا، پھر اس نے یہ عمل کسی محفل میں اس عاجز سے سنا اور اس نے باقاعدگی کے ساتھ اس پر عمل کرنا شروع کر دیا، اگلے سال وہ پورے اسکول میں فرسٹ آیا،
اسی طرح کسی محفل میں اس عاجز نے یہ عمل بتایا، کافی عرصہ کے بعد ایک طالبہ نے خط لکھ کر اپنے حالات بتائے اس نے لکھا کہ میں تو بڑی مشکل سے پاس ہوتی تھی میرے دل کی تمنا تھی کہ میں لیڈی ڈاکٹر بنوں، آپ سے میں نے یہ عمل کسی محفل میں سنا اور عمل کرنا شروع کر دیا، کبھی بھی ناغہ نہیں ہوا، اب الحمدللہ میں نے امتحان دیا اور اب میں میڈیکل کالج میں پہنچ چکی ہوں۔



















































