عمرو بن ہشام کا شمار مکہ کے انتہائی دانا لوگوں میں ہوتا تھا، اس کو اپنے آپ پر اتنا ناز تھا کہ سیدنا عمر فاروقؓ کا نام بھی عمر تھا، مگر وہ کہتا تھا کہ مجھے عمر کہناچاہیے اور آپ کو اسم تصغیر کا صیغہ استعمال کرنا چاہیے، چنانچہ مورخین نے لکھا ہے کہ حضرت عمرؓ کو ایمان لانے سے پہلے عمیر کہا جاتا تھا، وہ انہیں عمر نہیں کہلوانے دیتا تھا، وہ کہتا تھا کہ عمر میں ہوں،
وہ اتنا دانا تھا کہ جو معاملات لوگوں سے نہیں سمٹتے تھے وہ اکیلا سمیٹ دیتاتھا، اس لیے لوگوں نے اس کا نام ’’اباالحکم‘‘ (داناؤں کاباپ) رکھا اور جب اس نے دین کو قبول نہ کیا تو نبی کریمؐ نے اس کا نام ابوجہل رکھ دیا، یعنی تو جاہلوں کا باپ ہے۔دیکھیں کہ قابلیت اتنی کی وہ قریش کا سردار ہے اس کی پرسنلٹی (شخصیت) کتنی خوبصورت ہے، اس کے مال و دولت ہے، لوگ اس کے اشارے پرناچنے کو تیار ہیں مگر اللہ رب العزت کے یہاں قبولیت حاصل نہ ہوئی اور وہ اس دنیا سے ایمان کے بغیر رخصت ہو گیا۔
استاد سے بھرپور مناسبت پیدا کیجئے
سیدنا عمر بن خطابؓ نے ایک دفعہ خواب میں دیکھا کہ حضور نبی کریمؐ پر بارش ہو رہی ہے، آپؐ کے جہاں قدم مبارک ہیں وہاں ابوبکر صدیقؓ کا سر ہے، بارش کا جو پانی نبی کریمؐ پر آ رہا ہے وہ سارا کا سارا ابو بکر صدیقؓ پر آ رہا ہے، حضرت عمرؓ نے بھی اپنے آپ کو قریب کھڑے دیکھا، عمر بن خطابؓ کہتے ہیں کہ ابوبکر صدیقؓ سے چھینٹیں اڑ کر میرے اوپر پڑ رہے ہیں اور میں بھی بھیگا چلا جا رہا ہوں، صبح اٹھے اور نبی اکرمؐ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا، اے اللہ کے محبوبؐ! میں نے رات خواب میں یہ چیزیں دیکھی ہیں، آپؐ نے فرمایا: عمر! یہ علوم نبوت تھے جو بارش کی طرح میرے اوپر برس رہے تھے،
صدیقؓ کو چونکہ میرے ساتھ کمال مناسبت نصیب ہے اس لیے وہ مجھ سے سب سے زیادہ کمالات پا رہے ہیں اور اس کے ساتھ مناسبت کی وجہ سے تم بھی ان علوم کو حاصل کر رہے ہو۔
طلب علم کے ساتھ گھر والوں کا خیال
مفتی محمد شفیع صاحبؒ فرماتے ہیں کہ میں اپنی بستی سے جب دارالعلوم میں پڑھنے کے لیے آتا تو سردی کی راتوں میں امتحان کے قریب ذرا دیر تک پڑھنا ہوتا تھا،
تیاری کرنی ہوتی تھی، جب میں واپس لوٹ کر آتا تو گھر کے سارے لوگ سوئے ہوئے تھے، امی اٹھتی اور اس وقت مجھے کھانا گرم کرکے دیتی تو میں امی کی منت سماجت کرتا کہ آپ کیوں سردیوں میں اٹھتی ہیں؟ بس آپ کھانا رکھ دیا کریں، میں خود ہی آ کے کھا لیا کروں گا، بڑی مشکل سے امی کو میں نے منایا، فرماتے ہیں کہ جب میںآتا تو سالن جمع ہوا ہوتا،
میں اس کے اوپر سے جمی ہوئی تہہ ہٹا دیا کرتا تھا اور ٹھنڈا کھانا کھا کر گزارا کر لیتا، لیکن میں اپنی تعلیم میں حرج نہیں آنے دیتا، اب دیکھو! جن بچوں کے اندر بچپن، لڑکپن سے یوں علم کا شغف ہو، شوق ہو، طلب ہو، احساس ذمہ داری ہو اور وہ علم کی خاطر اس طرح اپنی ضرورتوں کو بھی قربان کریں، یہ وہ بچے ہوتے ہیں جو اپنی جوانی میں آسمان علم پر ستارے بن کر چمکا کرتے ہیں، پھر ایک وقت آیا، اللہ رب العزت نے اس بچے کو مفتی اعظم پاکستان بنادیا۔



















































