سیدنا عمر فاروقؓ ایک مرتبہ مکہ مکرمہ سے مدینہ طیبہ کی طرف آ رہے تھے، راستے میں رات کے وقت قیام فرمایا، رات کو جب سوئے اور تہجد کے وقت آنکھ کھلی، دیکھا کہ آسمان پر چودھویں کا چاند نور برسا رہا ہے، ماحول میں بھی ٹھنڈک تھی، ہر طرف چاندنی ہی چاندنی ہے، حضرت عمرؓ کو محسوس ہوا کہ قبولیت دعا کا وقت ہے، یہ رحمتوں کے نزول کا وقت ہے، اسی وقت آپؓ نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی اور دل کی تمنا پیش کی،
اے اللہ میرے دل کی تمنا یہ ہے: ’’اے اللہ! مجھے اپنے راستے میں شہادت نصیب فرما اور مجھے اپنے محبوبؐ کے شہر میں دفن ہونے کی سعادت نصیب فرما۔‘‘اس بات سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان لوگوں کے دل میں کتنی تڑپ ہوا کرتی تھی، اللہ رب العزت کی محبت کا یہ اثر ہوتا تھا کہ وہ اللہ کے نام پر جان بھی قربان کر دیتے تھے، اور احسان بھی اللہ تعالیٰ کا مانتے تھے، گویا زبان حال سے یہ کہتے تھے:جان دی، دی ہوئی اسی کی تھی۔۔حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا۔
جس قوم کے بچوں کا یہ جذبہ ہو
جنگ بدر کے موقع پر دو چھوٹے چھوٹے بچے معاذؓ اور معوذؓ میدان میں کھڑے ہیں، تلوار بڑی ہے اور ان میں سے ایک کا قد اپنی تلوار سے بھی چھوٹاہے، حضرت عبدالرحمانؓ ایک صحابی ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے دائیں بائیں دیکھا کہ میرے ساتھ کون ہیں تاکہ ہم مل کر کفار سے جہاد کریں، مجھے دو چھوٹے چھوٹے بچے نظر آئے، مجھے خیال آیا کہ اگر کوئی بڑا جوان ہوتا تو اچھا تھا، اتنے میں وہ بچے میرے قریب آئے اور پوچھنے لگے کہ چچا! آپ کو پتہ ہے کہ ابوجہل کہاں ہے؟ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے ان بچوں کو دیکھا کہ اتنے چھوٹے بچے اور وہ کفار کے سرغنے کے بارے میں پوچھ رہے ہیں،
میں نے کہا کہ بچو! آپ کیوں پوچھ رہے ہیں؟ وہ کہنے لگے کہ ہم نے یہ سنا ہے کہ وہ ہمارے محبوبؐ کی شان میں گستاخیاں کرتا ہے، ہم نے عہد کر لیا ہے کہ وہ زندہ لوٹ کر گھر واپس نہیں جائے گا یا ہم اپنے گھروں کو واپس نہیں جائیں گے، جس قوم کے بچوں کا یہ عالم ہو اس قوم کے جوانوں کا کیا عالم ہوگا! اور واقعی ان دو بچوں نے بالآخر ابو جہل کو مارا، جب جہاد شروع ہوا تو وہ اتنے چھوٹے تھے کہ کسی نے ان کا نوٹس ہی نہیں لیا
اور یہ اندر سے سب گھوڑوں کے درمیان سے پیدل بھاگتے ہوئے اس کے پاس پہنچ گئے، انہوں نے اس کے گھوڑے کی ٹانگ پر وار کیا تو گھوڑا گرا اور گھوڑے کے گرنے سے ابوجہل بھی گرا، انہوں نے اس پر وار کرکے اسے زخمی تو کر دیا مگر یہ اتنے چھوٹے تھے کہ اس کا گلا بھی کاٹ نہیں سکتے تھے، عبداللہ بن مسعودؓ کو اللہ نے یہ سعادت عطا فرمائی، وہ آگے بڑھے اور انہوں نے ابوجہل کا گلا کاٹ دیا۔



















































