مالک بن نضر فوت ہوگئے تو حضرت انسؓ کی والدہ ام سلیم بیوہ ہو گئیں، مدینہ منورہ کے ایک شخص ابو طلحہ نوجوان بھی تھے، خوبصورت بھی تھے، ان کے پاس مال و دولت کی بھی بہتات تھی اور ان کی اتنی عزت تھی کہ ان کی رائے کا بہت ہی احترام کیا جاتا تھا، انہوں نے ام سلیم کی طرف رشتہ کا پیغام بھیجا۔۔۔ چونکہ وہ قریبی رشتہ داروں میں سے تھے اس لیے انہوں نے ڈائریکٹ پیغام بھیجا کہ میں آپ سے رشتہ کرنا چاہتا ہوں،
اب یہ رشتہ ایسا تھا کہ اس کو کوئی ٹھکرا بھی نہیں سکتا تھا۔۔۔ حضرت ام سلیمؓ جانتی تھیں کہ وہ ابھی تک مسلمان نہیں ہوئے ہیں، چنانچہ انہوں نے ان سے دین کی بات چلائی اور فرمانے لگیں:’’ابو طلحہ! تم ایک ایسے شخص ہو کہ اگر تم کسی بھی عورت کی طرف پیغام نکاح بھیجو تو تمہارے پیغام کو کبھی رد نہیں کیا جائے گا، مگر تم کافر ہو اور میں مسلمان ہوں، تم لکڑی کے بنے ہوئے بت کو پوجتے ہو اور میں علیم و خبیر ذات کو پوجتی ہوں، بھلا میرے ساتھ تمہارا جوڑا کیسے ہو سکتا ہے؟‘‘حضرت ام سلیمؓ نے اتنے پیارے انداز میں دین کی بات کہی کہ بالآخر ابو طلحہ نرم پڑ گئے، جب انہوں نے دیکھا کہ نرم ہو چکے ہیں تو فرمانے لگیں:’’میں تمہارے نکاح کے پیغام کوقبول کرتی ہوں اس شرط پر کہ میرے نکاح کا مہر تمہیں دینا ہوگا اور میرا مہر یہ ہوگا کہ تم دین اسلام کو قبول کر لو۔‘‘یہ بات سن کر ابو طلحہؓ نے کلمہ پڑھ کر اسلام قبول کر لیا اور پھر اس کے بعد ان کا آپس میں نکاح ہوا، صحابہ کرامؓ فرماتے تھے کہ دنیا میں کسی کا حق مہر ام سلیم کے حق مہر سے بہتر نہیں کہ انہوں نے اپنے حق مہر میں اپنے خاوند سے کہا کہ تم مسلمان بن جاؤ، یہی میرا حق مہر ہے، یہ ہے اس زمانہ کی خواتین کا ایمانی جذبہ کہ ایمان پر جمنے کے ساتھ ایمان کی دعوت بھی دیا کرتی تھیں۔



















































