جب اللہ تعالیٰ پر ایمان پکا ہو، یقین کامل ہو تو یہ مومن خلیفۃ اللہ فی الارض ہوتا ہے، ذرا غور کیجئے سیدنا عمرؓ خلیفہ وقت تھے ، اللہ نے وہ شان عطا فرمائی کہ زمین پر ان کا حکم چلتا تھا، دیکھیں! اللہ تعالیٰ کی مخلوق چار چیزوں سے بنی، آگ، ہوا، پانی اور مٹی چاروں پر ان کا حکم لاگو ہوتا تھا۔(1)۔ ایک مرتبہ زمین پر زلزلہ آیا، عمرؓ نے زمین پر ایڑی ماری اور فرمایا کہ اے زمین! تو کیوں ہلتی ہے کیا عمرؓ نے تیرے اوپر عدل قائم نہیں کیا؟
ان کی یہ بات سن کر زمین کا زلزلہ رک گیا، زمین پر حکم چل رہا ہے۔(2)۔ خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے، فرمایا: یا ساریۃ الجبل! ہوا ان کے پیغام کو سیکڑوں میل دور پہنچا دیتی ہے، ہوا پر حکم چل رہا ہے۔(3)۔ دریائے نیل کا پانی نہیں چلتا، دریائے نیل کو رقعہ لکھتے ہیں، دریائے نیل! اگر اپنی مرضی سے چلتا ہے تو نہ چل اور اگر اللہ رب العزت کے حکم سے چلتا ہے تو امیرالمومنین تجھے حکم دیتے ہیں کہ چل! دریائے نیل چلنا شروع کر دیتا ہے، آج تک دریائے نیل کا پانی چل رہا ہے، عمر بن خطابؒ کی عظمتوں کے پھریرے لہرا رہا ہے، پانی پر حکم چل رہا ہے۔(4)۔ مدینہ طیبہ کی ایک طرف سے آگ نکلتی ہے، جس کو ’’حرہ شرقیہ‘‘ کہتے ہیں اور وہ بڑھنا شروع ہو جاتی ہے، حضرت عمرؓ دحیہ کلبیؓ کو فرماتے ہیں کہ جائیں اور اس آگ کو واپس دھکیلیں، تمیمی داریؓ نے دو رکعت نفل پڑھی اور آگ کے پاس جا کر چادر کو چابک کی طرح استعمال کیا، جیسے انسان کسی حیوان کو واپس اپنی جگہ دھکیلتا ہے، وہ چادر کے ذریعہ آگ کو چابک مارتے گئے اور آگ کو واپس دھکیلتے گئے حتیٰ کہ جہاں سے آگ نکلی تھی وہی واپس چلی گئی تو دیکھئے! ایمان کے بنانے کی وجہ سے ہوا پر حکم چلتا ہے، پانی پر حکم چلتا ہے، زمین پر حکم چلتا ہے، آگ پر حکم چلتا ہے، صحیح شہنشاہی تو یہی ہے، اسی لیے کہنے والے نے کہا:ہم فقیروں سے دوستی کر لو۔۔گر سکھائیں گے بادشاہی کا۔
اللہ والوں کے وقت میں برکت کیوں؟
علامہ شعرانیؒ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میرے پاس شیخ ابوالعباس حریثیؒ تشریف لائے اور مغرب کی نماز میرے پاس پڑھ کر قرآن شریف کی تلاوت کرنے بیٹھ گئے اور عشاء کی اذان تک پانچ قرآن ختم کر لیے،میں نے سیدی علی مرصفیؒ کو اس واقعے سے مطلع کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے ایک دن رات میں تین لاکھ ساٹھ ہزار دفع قرآن پاک ختم کیا ہے، میں نے پوچھا کہ آپ نے حروف کے ساتھ اتنے قرآن ختم کیے یا بغیر حروف کے؟
فرمایا حروف کے ساتھ ختم کیے ہیں، میں نے دریافت کیا کہ یہ کیسے ہو جاتا ہے، فرمایا روح جسم کثیف سے مجرد ہو جاتی ہے تو ایسا کر لیتی ہے، میں نے عرض کیا کہ اولیاء کرام کے لیے ان واقعات کے پیش آنے میں کیا حکمت ہے؟ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بڑھانا چاہتے ہیں، کیوں کہ اس امت کی عمریں دوسری امتوں کی عمروں سے کم ہیں تو اللہ تعالیٰ نے اس امت کے خاص لوگوں کو ایسی ایسی کرامتیں عطا فرما دی ہیں تاکہ یہ لوگ اعمال میں بھی پہلی امتوں کے عابدوں سے بڑھ جائیں جن کی عمریں پانچ سو برس یا اس سے زیادہ ہوتی تھیں۔



















































