(1)۔ حضرت یزید بن حیانؒ فرماتے ہیں کہ میں اور حصین بن سبرہؓ اور عمر بن مسلمؓ حضرت زید بن ارقمؓ کے پاس گئے، جب ہم ان کے پاس بیٹھ گئے تو حصینؓ نے ان سے کہا کہ اے زیدؓ آپ نے بہت کچھ بھلائیاں دیکھی ہیں، رسول اکرمؐ کی زیارت سے آپ مشرف ہوئے، نبی اکرمؐ کی حدیثیں آپ نے سنیں، آپؐ کے ساتھ غزوات میں شریک ہوئے۔ آپؐ کے پیچھے نماز پڑھی،
بے شک اے زید آپ نے خیرکثیر جمع کر لی ہم سے وہ حدیث بیان کیجئے جو آپ نے نبی اکرمؐ سے سنی، حضرت زیدؓ نے فرمایا اے برادر زادہ! میری عمر زیادہ ہو گئی، عرصہ دراز گزر گیا، میں بعض وہ باتیں بھول گیا ہوں جن کو میں نے حضور اکرمؐ سے یاد کیا تھا، پس جو کچھ میں تم سے بیان کروں اس کو مان لو اور جو کچھ بیان نہ کروں تو اس کی مجھے تکلیف نہ دینا، اس کے بعد فرمایا کہ ایک روز رسول اللہؐ ہم لوگوں میں خطبہ دینے کے لیے اس پانی کے کنارے کھڑے ہوئے جس کو ’’خم‘‘ کہا جاتا ہے اور جو مکہ اور مدینہ کے درمیان ہے، آپؐ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی اور وعظ و نصیحت فرمائی، پھر آپؐ نے فرمایا۔امابعد! اے لوگو! میں بشر ہوں اور قریب ہے کہ میرے پاس میرے رب کا قاصد بلانے کے لیے آئے اور اس کا کہا مان لوں، میں تم لوگوں میں دو بھاری بھر کم چیزیں چھوڑے جاتا ہوں، ان میں سے پہلی چیز کتاب اللہ ہے، جس میں ہدایت ہے، نور ہے، تم اللہ کی کتاب لو اور اسے مضبوطی سے پکڑ لو، چنانچہ آپؐ نے کتاب اللہ (کے عمل) پر آمادہ کیا اور اس کے بارے میں رغبت دلائی، اس کے بعد فرمایا (دوسری چیز) میرا گھرانہ ہے، میں تمہیں اپنے اہل بیت کے بارے میں خدا یاد دلاتا ہوں۔یہ سن کر حضرت حصینؓ نے پوچھا اے زیدؓ! آپؐ کے اہل بیت کون ہیں؟ کیا آپؐ کی ازواج مطہرات آپؐ کے اہل بیت نہیں ہیں،
حضرت زیدؓ نے فرمایا آپؐ کی ازواج تو اہل بیت ہی میں سے ہیں تاہم آپؐ کے اہل بیت وہ لوگ ہیں کہ آپؐ کے بعد جن پر صدقہ کا مال حرام کر دیا گیا، حصینؓ نے پوچھا کہ وہ کون لوگ ہیں؟ فرمایا حضرت علیؓ، حضرت عقیلؓ، حضرت جعفرؓ، حضرت عباسؓ اور ان کی اولادیں ہیں، حضرت حصینؓ نے پوچھا ان سب پرصدقہ کا مال لینا حرام کر دیا گیا، حضرت زیدؓ نے کہا ہاں۔
(2)۔ ابن شہاب روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ اپنے اپنے دور خلافت میں جب کبھی حضرت عباسؓ سے ملتے اور یہ سوار ہوتے تو اپنی سواری سے حضرت عباسؓ کے لیے اتر جاتے اور اس سواری کی لگام پکڑ کر حضرت عباسؓ کے ساتھ پیدل چلتے، یہاں تک کہ حضرت عباسؓ اپنے مکان یا اپنی مجلس پر پہنچ جاتے تو یہ جدا ہوتے تھے۔
(3)۔ حضرت قاسم بن محمدؒ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عثمانؓ کے ان واقعات میں سے جن پر لوگ راضی ہوگئے ایک یہ ہے کہ انہوں نے ایک آدمی کو کسی جھگڑے میں سزا دلوائی،جس نے اس قصیہ میں حضرت عباس بن مطلبؓ کی توہین کی تھی، جب حضرت عثمانؓ سے اس سزا کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا کہ جناب رسول اللہؐ نے اپنے چچا کی تعظیم کی اور میں ان کے چچا کی توہین کیے جانے پر رخصت دے دوں، جو آدمی اس کام پر راضی ہو بے شک اس نے رسول اللہؐ کی مخالفت کی، چنانچہ لوگ حضرت عثمانؓ کی اس بات سے راضی ہوگئے۔



















































