(1)۔ علامہ عبدالوہاب شعرانیؒ نے ایک جگہ پر واقعہ لکھا ہے کہ کسی جگہ حضرت جنید بغدادیؒ تشریف فرما تھے، آپ ذرا آرام حاصل کرنے کے لیے ٹانگیں پھیلا کر بیٹھے تھے، ان کے سامنے ایک درویش بیٹھا تھا، اس نے بھی ٹانگیں پھیلا لیں یوں کہ ٹانگیں شیخ کی طرف تھیں، حضرت جنید بغدادیؒ کچھ دیر اس درویش کی طرف دیکھتے رہے اور پھر اپنی ٹانگیں سمیٹ لیں،
اس فقیر نے بھی اپنی ٹانگیں پیچھے سمیٹنا چاہیں لیکن وہ ان کو پھر نہ ہٹا سکا وہیں مفلوج ہو گئیں، اللہ تعالیٰ ہمیں مشائخ کی بے ادبی سے محفوظ فرمائیں۔(2)۔ کسی شیخ کا ایک مرید تھا ایک مرتبہ اس پر انقباض کی کیفیت طاری ہوئی اور اس کی ذوق و شوق والی تمام کیفیات ختم ہو گئیں، کافی عرصہ وہ پریشان رہا کہ اس پر ایک عجیب وحشت کی حالت طاری تھی، وہ اپنے شیخ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان کو اپنی حالت بتائی، شیخ نے فرمایا تم اپنے اعمال پر غور کرو کوئی ایسی حرکت تو نہیں ہوئی جس پر یہ عتاب ہوا ہو، اس نے کافی غور کیا اور پھر شیخ سے عرض کیا کہ کوئی ایسی بات میرے علم میں تو نہیں آ رہی، شیخ نے پھر فرمایا نہیں تم دوبارہ غور کرو کوئی نہ کوئی عمل تم سے ایسا ہوا ہے جس کا یہ وبال ہے کافی دیر سوچ کر اس کے دل میں آیا کہ اور تو کوئی ایسا عمل نہیں ہوا سوائے اس کے کہ ایک مرتبہ شیخ کا عطا کہیں پڑا ہوا تھا اور وہ اس کے اوپر سے گزر گیا تھا، بس جب اس نے اس بات پر اللہ تعالیٰ سے گڑگڑا کر توبہ کی اور پھر شیخ سے توجہات لیں تو اس کی وہ حالت ختم ہو گئی اور انشراح قلب حاصل ہو گیا۔۔۔ لہٰذا جب کبھی قلب میں قبض کی کیفیت محسوس ہو، بلکہ قساوت پیدا ہونے لگے، دل اچاٹ رہنے لگے، فکرآخرت اور اعمال ختم ہونے لگے، تو جہاں تک ممکن ہو صحبت شیخ کی کوشش کیجئے عقیدت کے ساتھ تاکہ دل کی دنیا بدل جائے۔



















































