حضرت خواجہ بہاؤ الدین نقشبندی بخاریؒ کے بارے میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ ان پر قبض کی کیفیت اتنی زیادہ آئی کہ کچھ حال احوال محسوس بھی نہیں ہوتے تھے، ایسے لگتا تھا کہ جیسے سب کچھ ہی چلا گیا، چنانچہ وہ بڑا عرصہ استغفار بھی کرتے رہے، اللہ سے توبہ بھی کرتے رہے، آگے بڑھنے کی کوشش بھی کرتے رہے، مگر کچھ نہ محسوس ہوا،
حتیٰ کہ ایک دن خیال آیا کہ جب کچھ بھی کیفیت نہیں ہے تو پھر چلیں جا کر کوئی رزقِ حلال والا کام کریں، بچوں کو بھی تنگی ہے، چلو ایک طرف سے تو سہولت ہو جائے گی، یہ سوچ کر وہ اپنے گھر سے چل پڑے کہ میں جا کردکان پر کام کرتا ہوں، راستے میں نماز کا وقت ہو گیا، ایک مسجد میں داخل ہوئے، مسجد میں سامنے جو نظر پڑی تو ایک دو شعر لکھے ہوئے تھے، ان کا پڑھنا تھا کہ ان کی زندگی ہی بدل گئی، چنانچہ پھر دوبارہ ذوق و شوق کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوئے، یہ وہ وقت تھا کہ جس قبض کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کو نسبتِ نقشبندیہ سے سرفراز فرما دیا، اتنی بڑی نعمت مل گئی، وہ شعر کیا تھے؟ وہ شعر یہ تھے: مفلسا نیم آمدہ در کوئے تُو۔۔شیءًا للہ از جمالِ روئے تُو۔’’اے اللہ! میں تیری گلی میں مفلس بن کر حاضر ہوا ہوں، تو اپنے چہرے کے حسن کے صدقے کچھ مجھے بھی عطا کر دے۔‘‘دست بکشا جانبِ زنبیلِ ما۔۔آفریں بر دست و بر تُو۔’’وہ پیالہ جو میں نے لینے کے لیے پکڑا ہوا ہے، ذرا اپنا ہاتھ اسے دینے کے لیے میری طرف بڑھا دیجئے۔‘‘یہ اشعار ان کو اتنے اچھے لگے کہ انہوں نے وصیت فرمائی کہ جب میں مروں اور میرا جنازہ دنیا سے اٹھے تو کوئی ایک بندہ میرے جنازے کے آگے یہ اشعار پڑھتا ہوا جائے۔ ان اشعار نے اس عاجز کو بھی بڑا فائدہ دیا،
جب کبھی حرم شریف میں جانے کا اتفاق ہوا تو رات کی تنہائی میں بیت اللہ شریف کے پاس جا کر تصور کرتا ہے کہ میں اس وقت شہنشاہ کے دربار میں کھڑا ہوں، پھر وہاں انسان اللہ کا دھیان کرکے انسان اپنے رب سے باتیں کرے، ہم نے دیکھا ہے کہ ان اشعار کوبیت اللہ شریف کے سامنے پڑھنے سے بندے کی ایسی کیفیت بنتی ہے جس کو الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہوتا ہے۔



















































