ایک ڈاکو تھا، وہ اپنی ضعف و پیری میں شیخ بن گیا اور لوگوں کو بیعت بھی کرنا شروع کر دیا، اللہ کے یہاں تو اخلاص کی قدر ہے چنانچہ طالبین کو ان کے اخلاص کی وجہ سے خوب فائدہ ہوا اور روحانی طور پر کشف بھی ہونے لگ گئے۔ایک مرتبہ ان طالبین کی جماعت نے شیخ سے عرض کیا کہ ہم نے مراقبے میں مشائخ کے مقامات کو دیکھا ہے اور سب اکابر کے مقامات معلوم ہو گئے، مگر حضرت کا مقام شاید اتنا بلند ہے کہ ہم سب مل کر بھی اس کو نہیں پہچان سکے،
اللہ تعالیٰ کے نام میں برکت تو ہوتی ہی ہے اس سے کون انکار کر سکتا ہے، اللہ کے نام میں برکت ہوتی ہے چاہے کتنی ہی غفلت سے لیا جائے، چنانچہ اس مصنوعی پیر پر بھی اللہ کے نام کا اثر ہو کر رہا، وہ مریدوں کی یہ بات سن کر بہت رویا اور پھر اس نے اپنی حقیقت ان کے سامنے بیان کی اور رو کر مریدوں سے درخواست کی اب تم میری توبہ کے لیے دعا کرو، ان سب نے مل کر دعا کی تو اللہ نے اس پیر کو بھی نواز دیا۔
قبض کو دور کرنے کا ایک نسخہ
حضرت خواجہ عبداللہ دہلویؒ فرماتے ہیں کہ میرے قلبی حالات بہت ہی اچھے تھے، بسط کی کیفیت تھی، میں دعوت پر گیا، وہاں جو کھانا پیش کیا گیا وہ مشتبہ تھا، حرام نہیں تھا، بلکہ شبہ تھا کہ کھانے میں شاید سود کی ملاوٹ ہے، فرماتے ہیں کہ اس کھانے کو کھانے کے بعد میری کیفیت ختم ہو گئی، میں نے اپنے شیخ حضرت مرزا مظہر جان جاناںؒ کو آ کر بتایا کہ حضرت! یہ مسئلہ پیدا ہو گیا، حضرتؒ نے فرمایا کہ اب تم پابندی کے ساتھ میرے سامنے آ کر بیٹھنا، میں توجہات دوں گا تاکہ مشتبہ کھانے کی ظلمت دور ہو جائے، فرماتے ہیں کہ حضرتؒ میرے اوپر ایسی توجہ ڈالتے تھے کہ اگر وہ توجہ پہاڑ پر ڈالتے تو کانپ اٹھتا، چالیس دن متواتر توجہ دینے کے بعد ایک دن مشتبہ لقمے کا اثر میرے اندر سے زائل ہوا، جس طرح دوام ذکر سے قبض کی کیفیت ختم ہوتی ہے، اسی طرح صحبتِ شیخ اور توجۂ شیخ سے بھی قبض کی کیفیت ختم ہو کر انشراح کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔
مولانا رومؒ شیخ کی صحبت میں
مولانا رومؒ فرماتے ہیں۔بے عنایت حق و خاصان حق۔۔گرملک باشد سیاہ تست ورق۔کہ حق اور خاصان حق کی عنایت کے بغیر تم فرشتے بھی بن جاؤ گے تو بھی تمہارا نامہ اعمال سیاہ رہے گا، اس لیے فرماتے ہیں۔
مولوی ہرگز نہ شد مولائے روم۔۔تا غلام شمس تبریزی نہ شد۔مشہور واقعہ ہے، ایک دفعہ بیٹھے بچوں کو پڑھا رہے تھے، وضو کے لیے تالاب بھی قریب تھا، اس وقت شمس تبریزؒ آئے، انہوں نے آ کے پوچھا مولانا روم سے کہ ای چیست؟ (یہ کیا ہے) مولانا روم نے کہا، ایں قال است (یہ قال ہے) حضرت نے کتاب مانگی اور لے کر پانی میں ڈال دیا، اس زمانے میں فوٹو کاپیاں تو ہوتی نہیں تھی، مخطوط نسخے ہوتے تھے جو قلم اور سیاہی سے لکھے جاتے تھے،
کتاب کو پانی سے بچانا بڑا ضروری ہوتا تھا، مولانا رومؒ بہت گھبرائے کتاب ہی گئی، جب انہیں گھبرائے ہوئے دیکھا تو ہاتھ ڈال کر شمس تبریزؒ نے کتاب نکالی، اس کو جو ہاتھ سے جھاڑا تو اس میں سے دھول نکلنے لگی، مولانا روم حیران! کہا: ایں چیست؟ (یہ کیا ہے) انہوں نے فرمایا کہ ایں حال است (یہ حال ہے)۔حال دل ایک نعمت ہے جو اللہ والوں کی صحبت میں بیٹھ کر ملتی ہے، اور قیل و قال کرنے والے بالآخر صاحب حال بن جاتے ہیں۔۔۔ دل پر محبت کا رنگ آ جاتا ہے و من احسن من اللہ صبغۃ کے مصداق نظر آنے لگتا ہے۔



















































