اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

حضرت گنگوہی مرشد کی صحبت میں

datetime 17  اپریل‬‮  2017 |

ہمارے اکابر علماء دیو بند میں حضرت گنگوہیؒ کو فقہ میں ممتاز حیثیت حاصل ہے، فقیہ امت تھے، جب تعلیم سے فارغ ہوئے تودل میں خیال آیا کہ تھانہ بھون جائے اور حضرت حاجی امداد اللہؒ کے پاس ایک دن رہ کر آئے، جیسے طلبہ جاتے ہیں دعائیں کروانے کے لیے، ملنے کے لیے، زیارت کے لیے، اب جب یہ گئے حضرت حاجی صاحب سے ملاقات ہوئی تو ملاقات کے بعد واپسی کی اجازت مانگی،

حضرت حاجی صاحب نے فرمایا کہ میاں رشید احمد آپ کچھ دن ہمارے پاس بھی رہ جائیے، انہوں نے تھوڑے سے تامل کے بعد عرض کیا جی بہت اچھا۔حاجی صاحب نے خادم سے فرمایا کہ بھئی میاں رشید احمد کی چارپائی ہماری چارپائی کے قریب ڈال دینا بس اسی میں کام ہو جانا تھا، سو گئے، فرماتے ہیں کہ جب تہجد کا وقت ہواتو میری آنکھ کھلی میں نے دیکھا کہ کوئی نفلیں پڑھ رہا ہے، کوئی ذکر و اذکار کر رہا ہے، کوئی دعائیں مانگتے ہوئے رو رہا ہے، کوئی سجدے میں رو رہا ہے، عجیب کیفیت تھی، خانقاہ میں، فرماتے ہیں کہ میرا نفس تو چاہتا تھا کہ لیٹا رہوں، سویا رہوں مگردل نے کہا رشید احمد ورثۃ الانبیا میں شمولیت کی تمنا تو تمہیں بھی ہے اور انبیاء کرام کا خلق تو یہ تھا کہ ’’وہ لوگ رات کو بہت کم سوتے تھے اور آخری شب میں استغفار کیاکرتے تھے‘‘۔ کہنے لگے مجھے آیتیںیاد آنی شروع ہو گئیں، احادیث یاد آنی شروع ہوگئیں حتیٰ کہ بستر نے مجھے اچھال دیا، میں اٹھ بیٹھا میں نے بھی وضو کیا اور کچھ نفلیں پڑھیں اور اس کے بعد جیسے اور لوگ ذکر کر رہے تھے میں نے بھی ذکر شروع کر دیا، فرماتے ہیں کہ فجر کی نمازپڑھ کر حاجی صاحب کے پاس آیا تاکہ رخصت ہونے کی اجازت مانگوں، حضرت حاجی صاحب نے پوچھا میاں رشید احمد اگر ذکر کرنا ہی ہے تو پھر سیکھ کر کیوں نہیں کرتے، میں نے کہا حضرت سکھا دیجئے! اسی وقت بیعت ہو گئے۔

بیعت ہونے کے بعد میری حالت بدل گئی، میں نے فیصلہ کیاکہ اب چالیس دن یہیں گزاروں گا، حضرت نے بھی رکھ لیا، اب ذکر شروع ہو گیا، اذکار بتانے لگ گئے، ایک مہینہ محنت رہی، اپنی چراغ بتی تو پہلے ہی ٹھیک کر آئے تھے، حاجی صاحب نے تو فقط اس کو سلگانا تھا، آگ لگانی تھی، بھڑکانہ تھا، ایک مہینے کے اندر الحمدللہ ان کا کام بن گیا، حاجی صاحب نے جب دیکھا کہ اب ان پر ذکر کرکے اثرات کافی گہرے نظر آتے ہیں تو حاجی صاحب نے امتحان لیا،

یہ اللہ والے بھی امتحان لیتے ہیں یہ بھی جانچ پڑتا کرتے ہیں، آزماتے ہیں کہ بندے پر ذکر کا اثر ہوا بھی کہ نہیں۔ایک مرتبہ حضرت حافظ ضامن شہیدؒ حضرت امداد اللہ مہاجر مکیؒ کے گھر پہنچے تو دستر خوان پرتکلف کھانوں سے سجا ہوا تھا، مگر حاجی صاحبؒ نے تھوڑی سی دال اور دو روٹی حضرت گنگوہیؒ کے ہاتھ میں دے دی اورکہا میاں رشید احمد وہاں بیٹھ کر کھا لو، حاجی صاحبؒ خود تو کھا رہے ہیں مرغے چرغے، اور ان کو دے دی دال روٹی،

آج کا مرید ہوتا تو بیعت ہی توڑ دیتا، کہتا پیر صاحب میں عدالت نہیں ہے، لیکن وہ تو سمجھتے تھے کہ اللہ والے بڑے دانا ہوتے ہیں، حکیم ہوتے ہیں ان کے ہر فعل میں کوئی نہ کوئی حکمت ہوتی ہے، حضرت گنگوہیؒ دستر خوان کے کونے پر بیٹھ کر کھانے لگ گئے، حاجی صاحبؒ کچھ دیر تو بیٹھے کھاتے رہے پھر کچھ دیر کے بعد ایسے فرمانے لگے جیسے کوئی غصے میں بات کرتا ہے، فرمایا میاں رشید احمد! عرض کیا جی حضرت،

فرمایا: دل توچاہتا تھا تجھے اور بھی دور بٹھاؤں، یہ تم پر احسان کیا کہ دستر خوان کے کونے پر بٹھا دیا، ایک تو دی دال اور اوپر سے احسان کے دستر خوان کے کونے پر بٹھا لیا، یہ الفاظ کئی لوگوں کے سامنے کہے جائیں اور وہ بھی کسی بڑے عالم سے تو نفس زیادہ بھڑکتا ہے، اس کے بعد حاجی صاحب نے آپ کے چہرے کو دیکھا کہ نفس بھڑکتا ہے یا نہیں مگر وہاں تو نفس مٹ چکا تھا، پامال ہو چکا تھا،

انہوں نے جب یہ سنا تو چہرے پر بشاشت آ گئی اور کہنے لگے کہ حضرت! آپ نے سچ فرمایا میں تو آپ کے جوتوں میں بیٹھنے کے بھی قابل نہیں تھا، یہ تو آپ کا احسان ہے کہ آپ نے دستر خوان کے کونے پر بٹھا لیا، حاجی صاحبؒ نے جب دیکھا کہ نفس بھڑکنے کے بجائے چہرے پر بشاشت ہے تو فرمایا الحمدللہ ذکر کے اثرات نمایاں نظر آتے ہیں، چنانچہ دعوت کے بعد واپس آ کر حاجی صاحبؒ نے اجازت و خلافت عطا فرما دی،

اب جو اجازت دی تو حضرت گنگوہیؒ بڑے حیران، کہنے لگے کہ حضرت! مجھے تو اپنے اندر کچھ نظر نہیں آتا، حاجی صاحب نے فرمایا: رشید احمد! تمہیں یہ اجازت (نسبت) اسی لیے دی گئی کہ تمہیں اپنے اندر کچھ نظر نہیںآتا، اگر نظرآتا تو یہ کبھی نہ دی جاتی، خیر اس کے بعد فارغ ہوئے اور اپنے گھرآگئے۔ایک دو سال پھر گنگوہ میں رہ کر کام کیا تو ایک مرتبہ حضرت حاجی صاحبؒ قدرتاً گنگوہ تشریف لے آئے،

جب ملاقات ہوئی تو حضرت حاجی صاحبؒ نے ایک عجیب بات پوچھی جو یاد رکھنے کے قابل ہے اور سونے کی سیاہی سے لکھے جانے کے قابل ہے، حضرت حاجی صاحب نے فرمایا کہ میاں رشید احمد! یہ بتاؤ کہ بیعت ہونے سے پہلے اور بیعت ہونے کے بعد تمہیں اپنے اندر کیا تبدیلی محسوس ہوئی؟ اصولی سوال تھا، جب یہ سوال پوچھا تو حضرت گنگوہیؒ تھوڑی دیر سوچتے رہے پھر فرمانے لگے کہ حضرت! مجھے اپنے اندر تین تبدیلیاں نظرآئیں۔

پہلی تبدیلی تو یہ ہے کہ بیعت ہونے سے پہلے مجھے کئی دفعہ مطالعے کے دوران اشکال پیش آتے تھے ان کے لیے حاشیہ دیکھنا پڑتا تھا، شروحات دیکھنی پڑتی تھیں، اور کافی ساری محنت کرنی پڑتی تھی تب وہ اشکال دور ہوتے تھے، اب جب سے بیعت ہوا ہوں، اشکال پیش ہی نہیں آتے، خود بخود رفع ہو جاتے ہیں، ذہن میں اللہ تعالیٰ ان کے جوابات ڈال دیتے ہیں۔دوسری تبدیلی یہ آئی کہ امور شرعیہ امور طبعیہ بن گئے،

یعنی اب جو بھی شریعت کے احکام ہیں ان پر عمل کرنے کے لیے مجھے نفس کو تیار کرنا نہیں پڑتا بے ساختگی کے ساتھ میں احکام شریعت پر عمل کرتا رہتا ہوں۔تیسری تبدیل یہ پیش آئی کہ دین کے معاملے میں حق بات کہہ دیتاہوں، اب میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں کرتا، جب حاجی صاحبؒ نے سنا تو فرمایا: الحمدللہ میاں رشید احمد! دین کے تین درجے ہیں۔دین کا پہلا درجہ علم ہے،

اور اس علم کا کمال یہ ہے کہ آدمی کونصوص شرعیہ میں کہیں تعارض نظر نہ آئے، اگر یہ کیفیت ہے تو پھر علم کامل ہے۔دوسرا درجہ عمل ہے اور اس کا کمال یہ ہے کہ مکروہات شرعیہ مکروہات طبعیہ بن جائیں، جن چیزوں سے شریعت نے کراہت کی طبیعت بھی ان سے کراہت کرے یہ عمل کا کمال ہے۔تیسرا درجہ اخلاص ہے کہ انسان خالصتاً لوجہ اللہ عمل کرے حتیٰ کہ ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہ رہے،

لوگوں کی مدح وذم انسان کی نظر میں برابر ہو جائے یہ اخلاص کا کمال ہے، مبارک ہو اللہ تعالیٰ نے آپ کو علم میں بھی کمال عطا فرما دیا، عمل میں بھی عطا کردیا اور اخلاص میں بھی عطا کر دیا۔۔۔ یہ ہے صحبتِ شیخ کا فائدہ کہ جس نے اتنے زبردست عالم و فقیہ، محدث و زاہد کے قلب میں جلا پیدا کر دیا اور اخلاص و محبت کا خوف و خشیت اور آہ و زاری کا پہاڑ بنا دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…