حضرت عبداللہ بن مبارکؒ سے کسی نے سوال پوچھا کہ حضرت! سیدنا امیر معاویہؓ کا درجہ بڑا ہے یا عمر بن عبدالعزیزؒ کا؟ عمربن عبدالعزیزؒ بعد کے دور کے تھے اور خلیفہ عادل تھے، جب کہ سیدنا امیر معاویہؓ کے زمانے میں بہت لڑائیاں رہیں اور انہیں جنگوں کی وجہ سے حالات پرامن نہ تھے اسی لیے اس آدمی نے ان دو شخصیات کے بارے میں سوال کیا،
حضرت عبداللہ بن مبارکؒ نے ایسا جواب دیاجو سونے کی روشنائی سے لکھنے کے قابل ہے، فرمایا:جب سیدنا امیر معاویہؓ نبی اکرمؐ کے ہمراہ جہاد کے لیے نکلے اور ان کے گھوڑوں کے نتھنوں میں جو گرد اور مٹی جا پڑی، عمر بن عبدالعزیزؒ سے بھی اس مٹی کا رتبہ بڑاہے، تو یہ فرق کس وجہ سے پڑا؟ صحبت کی وجہ سے پڑا۔جو نعمتیں اور برکتیں صحبت سے ملتی ہیں، وہ اس کے بغیر بندے کو حاصل نہیں ہو سکتیں۔
سفیان ثوریؒ ابو ہاشمؒ کی صحبت میں
حضرت سفیان ثوریؒ ایک بزرگ کی صحبت میں جاتے تھے جن کا نام ابو ہاشم تھا (المتوفی 150 ھ) اورحضرت سفیان ثوریؒ ان کو کہتے تھے ابو ہاشم الصوفی، یہ الصوفی کا لفظ حضرت سفیان ثوریؒ جیسے جلیل القدر استعمال فرماتے تھے، آج کہتے ہیں اپنے آپ کو سلفی، حنبلی وغیرہ لیکن تصوف کو نہیں مانتے، جبکہ صوفی کا لفظ اتنے بڑے محدث استعمال فرما رہے ہیں، کسی نے پوچھا آپ اتنے بڑے محدث بھی اور اتنے بڑے فقیہ بھی تو آپ ایسے بندے کے پاس جاتے ہیں، امام صاحبؒ نے ایسا جواب دیا کہ انہی کو زیب دیتا ہے کہ میں ریا کی دقیق باتوں سے کبھی واقف نہیں ہو سکتا تھا، اگر ابوہاشم کی صحبت میں نہ بیٹھتا، یہ ریا کو پہچاننا اس کی تفصیلات سے آگاہ ہونا، مشائخ کی صحبت میں بیٹھ کر راز کھلتے ہیں۔



















































