امام ربانی مجدد الف ثانیؒ نے یہ لکھا فرماتے ہیں کہ ایک ہمارا خادم تھا اور خادم لوگ جو ہوتے ہیں پھر ان کی رعایت بھی کرنی پڑتی ہے۔’’ھل جزاء الاحسان الا الاحسان‘‘ایک مرتبہ آپ کے خادم کا بھائی بیمار ہوا اور اس کے اوپر جان کنی کا عالم طاری ہو گیا یعنی آخری وقت، آخری لمحات، آخری علامات پوری ہو گئیں تو خادم نے آ کرکہا کہ حضرت میرا بھائی ہے،
اگر آپ مہربانی فرمائیں تو آپ تشریف لائیں، چلیں دعا بھی فرما دیں اور اس موقع پر اس پر توجہ بھی فرما دیں، اس کا معاملہ اچھا ہو جائے گا، خاتمہ بالخیر ہو جائے گا، حضرت فرماتے ہیں کہ میں اس کے ساتھ وہاں گیا، دعا بھی کی اور پھر توجہ بھی کی لیکن توجہ کرنے کے بعد میں نے دیکھا کہ اس کے دل پر کوئی اثر نہیں، فرماتے ہیں میں بہت دیر بیٹھا رہا اور توجہات ڈالتا رہامگر اس بندے کے دل پہ کوئی اثر نہیں ہوتا۔اس روحانیت کا بندہ اگر کسی بندے پر توجہ کر رہا ہو تو پھردل پر اثر تو لازمی ہونا چاہیے، مگر وہ فرماتے ہیں کہ میں نے بہت دیر بیٹھ کر توجہ کی مگر اس بندے کے دل پر کوئی اثر ظاہر نہ ہوا، فرماتے ہیں میں بہت پریشان ہوا اور میں اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوا، میرے اللہ میرے مولا رحمت فرما دے اور بات میرے اوپر واضح کر دے، فرماتے ہیں کہ پھر الہام کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے مجھ پر واضح فرمایا کہ اس بندے کی مصاحبت بدعقیدہ لوگوں کے ساتھ تھی، اس بندے کا بیٹھنا اٹھنا بدعقیدہ لوگوں کے ساتھ تھا، اس کی دوستی تھی کافروں کے ساتھ اور کافرں کی دوستی کی وجہ سے یہ ان کی باتیں سنتا تھا اور ان کے ساتھ راہ و رسم رکھتا تھا، اس کی ظلمت ایسی تھی کہ وقت کے مجدد نے بھی توجہ ڈالی، تو اس بندے کے دل پر اثر نہ ہو سکا۔



















































