کتابوں میں لکھا ہے کہ ایک ولی تھے، ان کی والدہ فوت ہو گئی تو اللہ رب العزت نے ان کے دل میں الہام فرمایا ’’اے میرے پیارے جس کی دعائیں تیری حفاظت کرتی تھیں وہ ہستی اب دنیا سے چلی گئی، اب ذرا سنبھل کے قدم اٹھانا‘‘ کہ جس کی دعائیں تیری حفاظت کرتی تھیں وہ ہستی دنیا سے چلی گئی۔ماں اگرچے بڑھاپے کی وجہ سے ہڈیوں کا ڈھانچہ کیوں نہ ہو،
بیمار کیوں نہ ہو ہاتھ پاؤں بھی نہیں ہلا سکتی مگر بستر پر پڑے پڑے جب اس کی زبان سے دعا نکلتی ہے وہ بچے کی حفاظت کر دیا کرتی ہے۔ اللہ اکبر۔*۔۔۔مولانا محمد انعام الحق قاسمی بتاتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے کسی جگہ امتحان لینا تھا پردے میں طالبات موجود تھیں، میں نے ان سے پوچھا کہ بتاؤ کہ دنیا میں سب سے زیادہ آسانی سے کون مان جاتا ہے؟ تو بچی نے جواب دیا کہ ماں جلدی مان جاتی ہے۔میں نے پوچھا کیسے؟کہنے لگی اپنے گھر میں میں دیکھتی ہوں میرا بڑا بھائی جب بھی کوئی گڑبڑ کرتا ہے تو امی اس کو سمجھاتی ہے، ناراض ہو جاتی ہے، ایسے نہیں کرنا تھا تم نے ایسے کرنا تھا، یوں کیوں کیا یوں کیوں کیا؟تو میرا بھائی منہ بنا کے باہر نکل جاتا ہے تو جیسے ہی باہر نکلتا ہے میں دیکھتی ہوں کہ امی اس کے لیے دعائیں کرنے لگ جاتی ہے، وضو کرتی ہے مصلے پر آ جاتی ہے نفل پڑھنے لگ جاتی ہے، اب ماں نفل پڑھ کر دعا مانگ رہی ہے، اے اللہ میرا بچہ کسی برے کے ہاتھ نہ لگ جائے، اللہ میرے بچے کو خیریت سے واپس لوٹا دینا اب ماں جب دعائیں مانگتی ہیں تو میں ان سے کہتی ہوں کہ اماں اگر آپ نے اس طرح رونا ہی تھا تو پھر اس کو ڈانٹا کیوں؟ماں کہتی ہے آخر میں ماں ہوں تربیت بھی تو میں نے ہی کرنی ہے، میں نہیں سمجھاؤں گی تو کون سمجھائے گا، مگر میرا یہ بھی دل نہیں چاہتا کہ اولاد میری نظر سے دور ہو جائے،
چنانچہ میں دعا مانگ رہی ہوں اللہ کرے میرا بیٹا جلدی واپس آ جائے، اب اس دوران کھانے کا وقت ہو جاتا ہے گھر کے سارے لوگ آ کے کھانا کھا لیتے ہیں، میں دیکھتی ہوں کہ امی کھانا نہیں کھاتی، میں کہتی ہوں امی کھانا کھا لے، ماں کہتی ہے بیٹی پتہ نہیں تیرے بھائی نے کھانا کھایا ہو گا یا نہیں، میرا کھانے کو جی نہیں چاہتا، پھر رات کا وقت آ جاتا ہے، گھر کے سارے لوگ سوجاتے ہیں، ایک امی جاگ رہی ہوتی ہے،
ابو بھی امی کو ڈانٹتے ہیں کہ تیری بے جا شفقت نے، محبت نے بچے کو بگاڑ دیا، ماں بھی ڈانٹ سن لیتی ہے، پھر بھی راتوں کو جاگتی ہے، پوچھتی ہوں اماں کیوں جاگ رہی ہو؟ کہتی ہے بیٹی ایسا نہ ہو کہ تیرا بھائی آئے اور دروازہ کھٹکھٹائے اور اسے دروازے پر انتظار کرنا پڑ جائے۔یہ ماں روتی ہے، سوتی بھی نہیں، کھاتی بھی نہیں، کس لیے؟ بچے کی محبت اس کے دل میں موجود ہے، ذرا سی آہٹ اس کو آتی ہے،
ہوا سے بھی دروازہ بند ہوتاہے تو ماں اٹھ کر بیٹھ جاتی ہے کہ میرا بیٹا تو نہیں آگیا، اور آدھی رات کے وقت جب بھائی گھر آتا ہے اور گھر آ کے اپنے کمرے میں چلا جاتا ہے تو امی مجھے آ کے جگاتی ہے، بیٹی تمہارا بھائی آگیا، اسے کھانا پکا کے اسے گرم کھانا دو، میں کہتی ہوں امی اس نے کمرہ بند کر لیا صبح کھا لے گا، صبح ہوتی ہے تو ماں پھر میرے پاس آتی ہے،
بیٹی رات کا بھوکا ہے چلو اپنے بھائی کو کھانا دے دو میں کہتی ہوں امی جب اتنی محبت ہے تو پھر آپ بچے سے کیوں ناراض ہوتی ہیں؟ ماں کہتی ہے بیٹی تو بچے سے راضی ہونے کے لیے تیار ہوں بس اتنا کہتی ہوں کہ وہ میرے پاس آ کے کہہ دے امی غلطی ہوئی بس اس کے غلطی کا لفظ کہنے پر میں اس کو معاف کر دوں گی، اب جو ماں تیار بیٹھی ہے کہ بیٹا اتنا ہی کہہ دے امی مجھ سے خطا ہوئی،
غلطی ہوئی وہ ماں تو جلدی معاف کر دے گی، میں نے کہا کہ اچھا اگر ماں کو زیادہ غصہ تھا اور الفاظ پر اگر ماں معاف نہیں کرتی کہ امی مجھے معاف کر دے تو پھر؟تو وہ کہنے لگی کہ اگر میرا بھائی آ کر امی کے پیر پکڑ لے تو امی اسی وقت نرم ہو جائے گی اور بچے کو کہے گی کہ اچھا بیٹا میرے پاؤں مت پکڑو میں نے تمہیں معاف کر دیا۔میں نے کہا کہ اس سے بھی زیادہ ناراض تھی،
پاؤں پکڑنے پے بھی راضی نہیں ہوتی تو اب بتاؤ؟ کہنے لگی اگر میرا بھائی آ جائے اور امی کے پاس بیٹھ کر آنکھوں سے دو آنسو اس کے نکل آئیں، ماں اپنے بیٹے کی آنکھوں کے آنسو برداشت نہیں کر سکتی، اپنے دوپٹے سے آنسوؤں کو پونچھے گی کہے گی بیٹا میں ناراض نہیں چل میں نے تمہیں معاف کر دیا۔یہ ماں کی ممتا ہے کہ بیٹے کے آنسو برداشت نہیں کر سکتی،
ناراض ہوتی ہے وہ بھی ظاہری طور پر ورنہ دل تو اس وقت بھی اولاد سے محبت کر رہا ہوتا ہے، کاش کہ ہم ماں کی حقیقت کو پہچانتے کہ ماں کو اولاد کے ساتھ کیا محبت ہوتی ہے۔۔۔ جب ماں کی ممتا کا یہ حال کہ دو قطرہ آنسو کو برداشت نہ کر پائی اور سینے سے چمٹا لیا، تو اللہ رب العزت جو ستر ماؤں سے زیادہ شفیق و رحیم ہیں، کیا ہمارے آنسوؤں پر محبت و رحمت اور مغفرت سے نہ چمٹائے گا، ضرورت ہے ندامت کے چند قطرے بہانے کی۔



















































