حضرت سلیمانؑ کے زمانے میں دو عورتیں تھیں چھوٹے چھوٹے ایک جیسے بچے اٹھائے ہوئے تھیں، جنگل میں جا رہی تھیں، ایک بھیڑیا آیا، اور اس نے اس میں سے ایک عورت کے بچے کو چھین لیا اور بھاگ گیا، تھوڑی دیر کے بعد اس عورت کے دل میں یہ خیال آیا کہ یہ دوسری عورت کا بچہ میں لے لوں، اس نے جھگڑا شروع کردیا، معاملہ حضرت سلیمانؑ تک پہنچا، دونوں اپنا حق جتلاتی ہیں، وہ کہتی ہے اس کے بچے کو بھیڑیا لے گیا، سلیمانؑ نے فرمایا چھری لاؤ، میں اس بچے کے دو ٹکڑے کرتا ہوں اور دونوں آدھا آدھا تقسیم کر دیتا ہوں،
ان میں سے جب ایک نے فیصلہ سنا تو وہ کہنے لگی ٹھیک ہے، لیکن جب دوسری نے سنا تو رونا شروع کر دیا کہنے لگی میرے بچے کے ٹکڑے نہ کرو، اس دوسری عورت کو دے دو یہی پالے گی، کم از کم میرا بچہ زندہ تو رہے گا، آپ سمجھ گئے کہ یہ بچہ اس عورت کا ہے، آپ نے اسے عطا فرما دیا، محبت کا تقاضا یہی ہے کہ محبوب کو تکلیف پہنچنے نہ پائے، اسے کانٹا چبھنے نہ پائے، اگر ہم نے اپنے پیارے اللہ سے محبت کا رشتہ مضبوط کر لیاتو پھر وہ کیسے گوارا کرے گا کہ ہمیں کوئی تکلیف پہنچے، خواہ دنیا میں ہوں یا قبر میں، محشر میں ہوں یا پل صراط پر۔



















































