وہ بس اسٹینڈ پر کھڑی تھی۔ چہرے پر گھبراہٹ کے آثار نمایاں تھے۔ کبھی اپنے آنچل سے اپنے چہرے کو چھپاتی تو کبھی ہلکا سا نیچے کر لیتی۔ ایک بڑی چادر سے اس نے خود کو سمیٹ رکھا ہے۔ دائیں بائیں آنے جانے والےکو امید کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے انہیں کچھ کہنے کیلئے اپنے لِب ہلاتی مگر جیسے اس کے لبوں کو کسی نے جکڑ رکھا ہو۔
اسے لگ رہا تھا شاید وقت اس کے ہاتھ سے نکلا جا رہا ہے اور ابھی تک ایک بھی شخص ایسا نہیں ملا جسے وہ روک کر اپنی بات کہہ سکے میں بس اسٹینڈ پر بس کے انتظار میں کھڑا تھا۔ بھیڑ میں نظر آنے والا ہر دوسرا چہرہ معمولی تاثرات کا حامل لگ رہا تھا مگر ان سب سے ہٹ کر اس کی گھبراہٹ کے آثار بخوبی دیکھے جا سکتے تھے۔ میں اپنے آپ میں اندازے لگانے لگا۔ شاید جس کے ساتھ آئی ہو وہ اسے اکیلا چھوڑ گیا ہوگا یا پھر شاید پہلی بار اکیلی سفر کرنے آئی ہوگی اس لئے فطری گھبراہٹ ہو مگر یہ کسی بس میں سوار کیوں نہیں ہو رہی !اس کی امید بھری نگاہیں آتے جاتے لوگوں کو دیکھتیں مگر کوئی جواب نا پا کر مایوس ہو جاتیں۔ اچانک اسکی نگاہ مجھ پر پڑی۔ لمحہ بھر کیلئے میں نے محتاط ہو کر نظریں پھیر لیں۔ مجھے دیکھتے ہوئے وہ آہستہ آہستہ قدموں سے میری طرف آئی اور ہلکی آواز میں کچھ کہا جو مجھے سنائی نا دیا۔ میں نے حوصلہ اور تسلی جیسی ملے جلے الفاظ جوڑ کر اسے کہا” ڈرو مت۔ آرام سے بولو کیا پریشانی ہے؟ کپکپاتے ہونٹوں سے صرف اتنا ہی ادا ہو سکا مجھے پندرہ سو روپے کی اشد ضرورت ہے ۔ چاہیں تو میرا جسم حاضر ہے “میرا سر چکرانے لگا یا خدا ! کیا کہا ؟؟؟ صرف پندرہ سو روپے کیلئے جسم کی نیلامی !!! کب سے ہو اس کام میں؟ ممممممممم ۔۔۔۔ وہ میں ۔۔۔میں پیشہ ور نہیں ہوں ۔۔۔۔ اگر ہوتی تو پچھلے کئ گھنٹوں سے ایک ہی جگہ کھڑی رہ کر وقت نہ ضائع کر رہی ہوتی ۔
انتہائی مجبوری میں یہ قدم اٹھایا آج ۔دل تو کیا اسے ڈانٹ سناوں کہ وہ جو کہہ رہی ہے ہوش میں تو ہے ۔۔۔ مگر یہ سوچ کرخود پر قابو رکھا کہ قصور اسکا بھی نہیں۔ مجبوری کا ہے جو اس پر آن پڑی۔ اس معاشرے کا ہے جس نے اسے یہ درس دیا کہ جسم فروشی ہر مسئلے کا حل ہے۔ مجبوریوں اور حوس کے پجاریوں نے عزتوں میں رہنے والیوں کو بھی بیچ بازار میں لا کھڑا کیا۔ بابا کی رانی آج درندوں کے درمیان آبرو ہاتھ میں لئے بدلے میں چند ٹکوں کی منتظر تھی ۔۔جلدی سے کاغذ پر اسکا ایڈریس نوٹ کیا تا کہ جو ممکن ہو سکے مالی امداد اور کچھ ضروری سامان اس کے گھر پہنچایا جا سکے ۔۔۔۔۔ دوبارہ اس سے اس راستے پر ناچلنے کا وعدہ لیا (اللہ کرے وہ اس پر قائم ہو) اور اسے گھر روانہ کر دیا۔



















































