حضرت عبدالماجد دریا بادیؒ کہتے ہیں: اس بچپن کی عمر میں بس سارا دن مجھے ایک ہی فکر ہوتی تھی کہ شام کو ایک خوانچے والا آتا ہے وہ کبھی گنڈیریاں بیچتا تھا اور کبھی سموسے بیچتا تھا اور اسی طرح کی چٹ پٹی چیزیں بیچتا تھا، سارا دن بس مجھے اس کی فکر ہوتی کہ کب عصر کا وقت آئے؟ اور وہ خوانچے والا صدا لگائے اور میں امی سے پیسہ لوں اور اس سے جا کر چٹ پٹی چیز لا کر کھاؤں۔گویا اس وقت بچے کی زندگی کا سب سے بڑا مقصد یہی بنا ہوا تھا۔
کہنے لگے کہ میں چھوٹا تھا تو ایک دن امی ابو آپس میں بیٹھے بات کر رہے تھے تو کسی نے کہا کہ قیامت کا دن ہوگا، بہت گرمی ہو گی اور سورج سوا نیزے پہ ہو گا اور پسینہ ہو گا اور بہت مشکل ہو گی تو ساری باتیں سن کر میں ہنس پڑا، تو امی نے کہا کہ بیٹے! ہنس کیوں رہے ہو؟ تو میں نے کہا: امی! جب اتنی زیادہ گرمی ہو گی تو میں گرمی سے بچنے کے لیے کمرے میں چلا جاؤں گا، تو کہنے لگے: سارے گھر والے ہنسنے لگے، کہ حشر کی گرمی کا تذکرہ اور بچے کا حال دیکھو کہ کہہ رہا ہے:امی! اس گرمی سے بچنے کے لیے میں اس دن کمرے میں چلا جاؤں گا۔ تو بچے کی اتنی ہی سوچ ہوتی ہے اور اتنا ہی اس کا معاملہ ہوتا ہے۔



















































