نبی کریمؐ کے بچپن کے واقعات مورخین نے بہت تھوڑے لکھے ہیں، سیرت کی کتابوں میں آپ کی جوانی کے واقعات دیکھیں تو وہ اگر ننانوے فیصد ہیں تو بچپن کے واقعات ایک فیصد بھی نہیں ملتے، وجہ یہ تھی کہ کوئی جانتا بھی نہیں تھا کہ یہ بچہ جو آج گودوں میں پل رہا ہے، اس نے بڑے ہو کر پوری دنیا کا معلم بننا ہے اور اللہ رب العزت کا محبوب ہونا ہے، اس لیے بچپن کے واقعات کتابوں میں اتنے زیادہ نہیں قلمبند کیے گئے،
چند ایک واقعات ہیں جن میں سے کچھ واقعات تو نبی کریمؐ نے خود ہی بتائے۔*۔۔۔ عام طور پر بچے کی عادت ہوتی ہے کہ اس کے جب دانت نکل رہے ہوں تو کوئی چیز بھی اس کے منہ میں ڈالو تو وہ اس کو کاٹتا ہے، ہر بچے کی عمر میں ایک خاص حصہ ایسا آتا ہے کہ اسے چیز کو چبانے کی عادت ہو جاتی ہے، آپ انگلی دیں تو انگلی کو کاٹے گا، اپنی ہتھیلی دیں تو ہتھیلی کو کاٹے گا، یہ بچے کی فطرت ہے۔غالباً ایسی ہی عمر ہوگی کہ جس میں انسان کے دانت نکلتے ہیں اور اس کو کاٹنے میں مزہ بھی آتا ہے، ایک مرتبہ آپ کی رضائی بہن ’’شیما‘‘ نے آپ کو اٹھایا اور آپ کوکندھے سے لگایا تو نبی کریمؐ نے کندھے پر دندان مبارک سے کاٹا، یہ اتنا زیادہ تھا کہ اس کے نشان پڑ گئے، اللہ کی شان دیکھیں کہ یہ نشان ان کے رہا۔ایک مرتبہ کسی غزوہ میں ان کے قبیلے کے لوگوں کو گرفتار کرکے لایا گیا، شیما اس وقت بوڑھی ہو چکی تھیں، وہ نبی کریمؐ کی خدمت میں آئیں اور انہوں نے آ کر بتایا کہ میں آپ کی بہن ہوں، نبی کریمؐ نے فرمایا کہ میں تو اپنے باپ کا ایک ہی بیٹا ہوں، آپ میری بہن کیسے؟ اس نے بتایا کہ میں حلیمہ کی بیٹی، آپ کی رضائی بہن ہوں، نشانی کے طور پر اس نے کہا کہ ایک مرتبہ میں نے آپ کو اٹھایا ہوا تھا تو آپ نے مجھے کاٹا تھا اور میرے جسم پر وہ نشان آج بھی موجود ہے، نبی کریمؐ نے اس نشان کو دیکھا تو آپ کو بھی یاد آ گیا کہ ہاں بچپن میں ایسا معاملہ پیش آیا تھا، اس کے بعد نبی کریمؐ نے اپنی چادر بچھائی اور اپنی بہن کو اس چادر پر بٹھایا، دیکھیں کہ آپؐ مستقبل کے معلم انسانیت تھے لیکن آپؐ سے بھی بچپن میں بچگانہ فطرت کا اظہار ہو رہا ہے۔



















































