(1)۔ حضرت امام شافعیؒ نے ایک مرتبہ ایک شخص کو دیکھا اور لوگوں سے کہا کہ یہ شخص یا تو بڑھئی ہے یا درزی ہے، لوگوں نے کہا حضرت آپ نے بالکل درست فرمایا پہلے یہ لکڑی کا کام کرتا تھا لیکن اب اس نے چھوڑ کر کپڑے سینے کا کام شروع کر دیا ہے۔(2)۔ حضرت ابراہیم خواصؒ نے رسالۂ قشیریہ میں ایک واقعہ لکھا ہے کہ ایک مرتبہ میں بغداد کی جامع مسجد میں تھا اور میرے پاس فقراء کی ایک جماعت موجود تھی،
ایک نوجوان بڑا ہنس مکھ، باوقار اور خوبصورت نہایت اچھا لباس پہنے ہوئے اور خوشبو لگائے ہوئے وہاں پہنچا، میں نے اپنے دوستوں سے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ یہ شخص یہودی ہے، سب نے میری بات کا یقین نہ کیا، میں جب مجلس سے اٹھ گیا تو اس نوجوان نے لوگوں سے پوچھا کہ شیخ نے میرے متعلق کیا کہا تھا؟ اس کی ظاہری وجاہت سے مرعوب ہو کر لوگوں نے اس کو اصل بات نہ بتائی لیکن جب اس نے بہت زور دے کر پوچھا کہ مجھے حقیقت بتاؤ تو پھر انہوں نے بتایا کہ شیخ نے کہا تھا کہ یہ شخص یہودی ہے، یہ سنتے ہی وہ نوجوان میرے پاس آیا اور میرے ہاتھوں پر اپنا سر رکھ دیا اور مسلمان ہو گیا۔(3)۔ ایک شخص درویشوں والا جبہ اور دلق پہنے ہوئے حضرت خواجہ عبدالخالق غجدوانیؒ کی مجلس میں آ کر ایک طرف بیٹھ گیا جب حضرت لوگوں کو وعظ و نصیحت کرکے فارغ ہوئے تو اس شخص نے حضرت سے سوال کیا کہ حضرت اتقواء فراسۃ المومن کا کیا مطلب ہے؟ اور وہ فراست کیا چیز ہوتی ہے؟ حضرت نے فرمایا کہ وہ فراست یہ ہے کہ تم اپنا زنار توڑ ڈالو، یہ سن کر اس نے شور مچا دیا اور کہا کہ معاذ اللہ مجھے زنار سے کیا مطلب؟ اسی اثناء میں ایک مرید نے شیخ کا اشارہ پا کر اس کے دلق کو اس کے بدن سے الگ کر دیا تو نیچے سے زنار نکلا، یہ واقعہ دیکھ کر وہ مسلمان ہو گیا،
اس کے بعد شیخ نے سب فقراء سے کہا کہ دوستو! جس طرح اس نے اپنے ظاہری زنار کو توڑ ڈالا اور مسلمان ہو گیا آؤ ہم سب بھی اپنے باطنی زنار کو توڑ ڈالیں اور اللہ کے حضور اپنے گناہوں سے سچی پکی توبہ کریں، اس پر لوگوں پر گریہ طاری ہوا اور سب نے اسی وقت بیعت کی تجدید کی۔(4)۔ یہ عاجز ایک مرتبہ ایک عالم کو حضرت مرشد عالمؒ کی خدمت میں چکوال حاضر ہوا،
دل میں خیال آیا کہ اتنے بڑے عالم میرے حضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں، اس لیے بہتر ہے کہ میں ان کے بارے میں حضرت کو کچھ بتا دوں، چنانچہ ہم جیسے ہی حضرت سے ملے، میں نے عرض کیا: حضرت! یہ ایک بڑے عالم ہیں، جو آپ کی زیارت کے لیے حاضر ہوئے ہیں، حضرت فرمانے لگے ’’چپ کر میں اسے پہلے ہی پڑھ چکا ہوں‘‘، حضرت نے یہ الفاظ مسجد میں کھڑے ہو کر ارشاد فرمائے۔



















































