حضرت مرزا مظہر جان جاناںؒ کے پاس ایک مرتبہ کوئی مرید آیا اور اس نے انگور پیش کیے، حضرتؒ اس میں سے کچھ انگور توڑ کر منہ میں ڈالنے لگے تو واپس رکھ دیے، فرمایا: مجھے ان میں مردوں کی بو آ رہی ہے، اس نے کہا: حضرت بازار سے لایا ہوں، لیکن حضرتؒ نے واپس کر دیے، حضرتؒ کے اس عمل کی وجہ سے اس کے اندر تجسس پیدا ہوا اور اس کی تحقیق کے لیے کمربستہ ہوگیا،
چنانچہ وہ دکاندار کے پاس گیا اور پوچھا: جی آپ نے یہ انگور کہاں سے لیے؟ اس نے کہا: ایک دیہاتی بندے کا انگور کا باغ ہے، وہ لاتا ہے اور میں اس سے خریدتا ہوں، اس نے کہا: مجھے اس کا ایڈریس بتاؤ! اس نے اس کا پتہ دے دیا، جب اس آدمی نے جا کردیکھا تو پتہ چلا کہ اس شخص نے ایک پرانے قبرستان کی زمین ہموار کرکے وہاں انگوروں کی بیلیں لگائی ہوئی تھیں۔



















































