اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

یہ حرام گوشت کب سے

datetime 14  اپریل‬‮  2017 |

حضرت خواجہ محمد عبدالمالک صدیقیؒ بہت محتاط بزرگ تھے، ان کی زندگی میں بڑا تقویٰ تھا، اگر کوئی آدمی ان کو کوئی مشتبہ مال کی چیز کھانے کے لیے دیتا تو آپ قبول ہی نہیں کرتے تھے، چنانچہ ایک آدمی نے کہا کہ میں نے ایک مرتبہ حضرتؒ کے لیے مشتبہ مال سے بہت کھانا بنوایا، تقریباً پچیس تیس ڈشز بنوائیں، اس کے علاوہ دال بالکل حلال مال سے بنوائی، جب حضرت دستر خوان پر تشریف لائے تو فقط دال کے ساتھ روٹی کھا کر اٹھ گئے،

باقی کسی اور چیز کی طرف ہاتھ بھی نہ بڑھایا۔حضرت مرشد عالمؒ کے بڑے صاحب زادے حضرت مولانا عبدالرحمن قاسمیؒ نے خود مجھے یہ واقعہ سنایا کہ حضرت مرشد عالمؒ تبلیغی سفر پر تھے، اس دوران حضرت خواجہ عبدالمالک صدیقیؒ اس علاقہ میں کسی پروگرام کے لیے تشریف لائے اور واپسی پر اچانک چوکوال تشریف لائے، جب حضرتؒ اچانک تشریف لائے تو میں خوش بھی ہوا اور حیران بھی ہوا، میں نے گھر میں والدہ صاحبہ کو آ کر بتایا کہ حضرتؒ تشریف لائے ہیں، ان کے لیے کھانا بنائیے، میں نے حضرتؒ کو بٹھایا، پانی پلایا اور جب دستر خوان لگایا تو حضرتؒ نے دستر خوان کی طرف ایک مرتبہ دیکھا پھر مجھے دیکھ کر فرمانے لگے: تمہارے گھر میں سور کیسے داخل ہوا؟ فرماتے ہیں کہ میں فوراً واپس والدہ صاحبہ کے پاس گیا اور ان سے کہا: امی جان حضرت تو کھانے کی طرف ہاتھ بھی نہیں بڑھا رہے، اور مجھے غصہ سے دیکھ کر فرماتے ہیں کہ تمہارے گھر میں یہ سور کیسے داخل ہوگیا، امی جان سر پکڑ کر کہنے لگی، اوہو! غلطی میری ہے میرے ہم سایے والی عورت مدتوں سے مجھے کہہ رہی تھی کہ جب تمہارے پیر صاحب آئیں گے تو اس دفعہ کھانا میں بنا کے دوں گی اور مجھے خیال ہی نہ رہا کہ حضرت محتاط غذا کھاتے ہیں، میں نے پڑوسن کا حق سمجھ کر اسے ہاں کر دی تھی، لہٰذا یہ ہمارے گھر کا کھانا نہیں پڑوس کے گھر کا کھانا ہے، تحقیق کی گئی تو پتہ چلا کہ اس کے خاوند کا مال تو حلال تھا مگر اس نے اپنی رقم کو سود والے اکاؤنٹ میں رکھا تھا، لہٰذا وہ بھی حرام بن گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…