دسمبر کی سردی میں رات کے 10 بجےمرجھایا چہرہ , کملائی معصومیت , گرد سے اٹے بال , میلا سا شلوار کرتا پہنے جیسے ہی وہ بس میں داخل ہوا۔اس نے آواز لگائی” شناختی کارڈ کور 10 روپے , 10 روپے “مجھ سمیت تمام مسافروں نے ایک نظر اس پہ ڈالی ۔وہ تقریباً دس بارہ سال کا قبول صورت بچہ تھااکثر نے بے اعتنائی سے نظر پھیر لی۔
وہ بچہ چلتا ہوا بس کے آخر تک جا رہا تھا۔ اور ہر ایک کے چہرے کے آگے وہ پیکٹ لا رہا تھا۔میرے دائیں ہاتھ کی قطار میں ایک نوجوان نے اسے اشارہ کیا۔وہ بچہ آنکھوں میں چمک لیے اسکی طرف آیا۔ مسافر: بیٹا یہ کتنے کا ایک کور بیچ رہے ہو ؟بچہ: 10 روپے کامسافر: ابھی کتنے ہیں تمھارے پاس؟ بچہ: صاحب جی , چار رہ گئے ہیں اس نوجوان نے کچھ سوچ کر جینز کی پاکٹ سے سو روپے والا نوٹ نکالا اور اس بچے کو پکڑا دیا۔ مسافر: مجھے یہ چار ہی دے دو ۔ اور یہ پیسے تم سارے رکھ لو۔اسکی یہ بات سن کر سب حیرت سے اسے دیکھنے لگے۔ اس نوجوان کے ساتھ بیٹھے لڑکے نے کہنی ماری اوئے یہ کیا کر رہا ہے ؟اس نوجوان نے ان سنی کردی۔بچہ ٹس سے مس نہیں ہو رہا تھا۔ مسافر : بیٹا اتنی سردی میں گھر جاتے ہیں۔ اب تک تو چلے جانا تھا۔گھر میں امی ہوں گی نا۔ وہ انتظار میں۔اب گھر جاؤ۔بچہ : ” صاحب جی جب یہ سارا سامان بِک جاتا ہے تو چلا جاتا ہوں گھر۔ تو امی کے پاس جا کر سو جاؤں گا “ایسا لگا جیسے کسی نے دل کو مٹھی میں لیکر بھینچ دیا ہو۔ایک ہوک سی اٹھی اور رگ و پے میں سرایت کر گئی شاید ارد گرد سب ہی اس کیفیت سے گزر رہے تھےمیں اور ارد گرد کے مسافر توجہ سے انکو دیکھ اور سن رہے تھے۔خواتین بھی تھیں اور بزرگ حضرات بھی اس نوجوان نے کچھ سوچا۔ اپنے سر پہ رکھی گرم ٹوپی اتار کر اس بچے کوپہنا دی۔اپنی جیب سے ایک اور نوٹ نکال کر اسے تھما دیامسافر : ” بیٹا ,اب گھر جاؤ۔ اور یہ پیسے کافی ہیں۔باہر سردی بہت ہے۔
بیمار ہو جاؤ گے۔جلدی گھر پہنچو۔”وہ بچہ اس نوجوان کے چہرے کو نظر بھر کر دیکھتا رہا۔ اور جلدی سے مڑ کر بس سے اتر گیا۔جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہیں ہوا۔اسکی نظریں بچے کا پیچھا کرتی رہیں۔



















































