ایک مرتبہ لاہور میں ایک کسان سیزن کے شروع شروع میں اپنے تربوز توڑ کر لایا کہ ریٹ اچھا ملے گا، اللہ کی شان کہ جب اس نے تربوز کھولے تو وہ اندر سے تھے تو سرخ، مگر پھیکے تھے، ایک بندے نے خریدا تو اس نے کہا کہ یہ تو میٹھا ہی نہیں، دوسرے نے خریدا تو اس نے بھی کہا کہ یہ تو میٹھا ہی نہیں، وہ بھی بڑا پریشان ہوا مگر وہ بندہ ہمت والا تھا اس نے سوچا کہ اب جو کچھ ہے وہ تو ہے ہی، مجھے پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے، مجھے اس کاحل نکالنا چاہیے۔چنانچہ اس نے سوچنا شروع کر دیا،
بالآخر وہ ایک پینٹر کے پاس گیا اور اس سے جا کر کہا: مجھے ایک بڑا سا سائن بنا کر دو، اس نے پوچھا اس پر کیا لکھوانا ہے؟ کہنے لگا: اس کے اوپر لکھو ’’لاہور میں پہلی مرتبہ شوگر فری تربوز‘‘اب جب اس نے شوگر فری کا لفظ لکھ دیا تو کسی نے کہا: میں امی کے لیے لے کر جاتا ہوں، میں ابو کے لیے لے کر جاتا ہوں، اس طرح اس کے پھیکے تربوز ڈبل ریٹ پر سارے کے سارے بک گئے۔ تو معلوم ہوا کہ انسان کو کوئی چیز دیکھ کر فوراً فرسٹ امپریشن میں نہیں آنا چاہیے، بلکہ اس کا وے آؤٹ نکالنا چاہیے۔



















































