(1)۔ ایک انگریز آیا اور آ کرمدرسے کے استاد سے کہنے لگا یہ عربی پڑھنے والے سارے طلباء سر کیوں منڈواتے ہیں؟ وہ بھی سمجھ دار تھے، کہنے لگے اچھا یہ بتائیں، یہ انگریزی پڑھنے والے سارے کے سارے داڑھی کیوں منڈواتے ہیں؟ اب اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔(2)۔ ایک مسلمان عالم تھے مگر نابینا تھے، انگریز ان سے سوالات پوچھنے آیا، اب وہ ہر سوال میں یہ کہتے کہ بھئی اس میں بھی حکمت ہے۔۔۔ اس میں بھی حکمت ہے۔۔۔ اس میں بھی حکمت ہے،
تو انگریز کو بڑاغصہ آیا، اس نے کہا اچھا یہ بتاؤ! تم جو اندھے ہو تو تمہارے اندھا پیدا ہونے میں کیاحکمت ہے، تو وہ کہنے لگے کہ میرے اندھے پیدا ہونے میں یہ حکمت ہے کہ تیرے جیسے بندے کی شکل نہ دیکھ سکوں۔(3)۔ ایک مشہور واقعہ ہے کہ پہلے زمانے میں جب یہاں انگریزوں کی حکومت ہوا کرتی تھی تو ہمارا ایک دیسی بندہ کسی انگریز کا نوکر تھا، ایک دفعہ کسی بات پر صاحب کو غصہ آ گیا اور غصے میں ہو کر کہنے لگا کہ جاؤ جہنم میں، وہ بے چارہ نوکر تھا وہ باہر چلا گیا، تھوڑی دیر کے بعد وہ پھر واپس آ گیا، آنا ہی تھا، انگریز نے پھر ناراضگی سے پوچھا، ’’تجھے میں نے کیا کہا تھا‘‘ اس نے کہا جی آپ نے کہا تھا کہ ’’جاؤ جہنم میں‘‘ تو پھر گئے کیوں نہیں؟ کہنے لگا، جی میں باہر تو نکلا تھا جانے کے لیے لیکن وہاں سب انگریزوں نے قبضہ کیا ہوا ہے، مجھے تو کوئی جانے ہی نہیں دیتا۔ (4)۔ سلطان عبدالحمید ترکی کے بادشاہ گزرے ہیں، بہت نیک آدمی تھے، اللہ کی شان کہ ترکی چاروں طرف سے یورپ میں گھرا ہوا ہے، ایک مرتبہ جرمنی کا بادشاہ اس سے ناراض ہوا تو ناراضگی میں اس نے خط لکھا، اس نے کہا کہ تمہارے ہمارے درمیان اس طرح گھرے ہوئے ہو جس طرح دانتوں کی مضبوط دیوار کے اندر زبان گھری ہوتی ہے،
یعنی اس کو دھمکی دی تو سلطان حمید نے جواب بھجوایا کہ جناب دانت ہمیشہ گرجایا کرتے ہیں زبان کو کچھ نہیں ہوا کرتا، بندہ غور کرے تو ہوتا تو ایسا ہی ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ زبان کو کچھ نہیں ہوا کرتا اور دانت تو پھر ٹوٹ ہی جاتے ہیں۔(5)۔ ایک عالم تھے ان کو ایک انگریز کہنے لگا، آؤ ہم تم متفقہ باتوں پر غور کر لیں، اس نے کہا، کیا؟ کہنے لگا کہ میں بھی عیسیؑ کو مانتا ہوں تم بھی عیسیؑ کو مان لو، عیسائی بن جاؤ،
بس ہم تم متفق ہو جائیں گے، اب یہ بات اس نے کتنی عجیب کی لیکن وہ طالب علم ذرا سمجھ دار تھا، کہنے لگا کہ متفق اس کو نہیں کہتے کہ تم عیسائی ہو اور میں بھی تمہارے ساتھ ہو جاؤں تو ہم دو متفق ہوئے، تو دو کی جگہ تین متفق کیوں نہ ہو؟ اس نے کہا تین کیسے؟ اس نے کہا دیکھو!! میں بھی حضرت محمدؐ کو مانتا ہوں تمہارے نبیؑ نے بھی ان کو مانا ’’من بعد اسمہ احمد‘‘ اب تم بھی اگر مسلمان ہو جاؤ تو ہم تینوں ایک بات پر متفق ہو جائیں گے تو دو کے بجائے تین متفق ہو جائیں گے۔
(6)۔ ایک انگریزی داں نے کسی عربی طالب علم سے پوچھا کہ بتاؤ عرش پر ستارے کتنے ہیں؟ تو طالب علم نے کہا مجھے تو نہیں پتہ، کہنے لگا کیا خاک پڑھتے ہو، تمہیں عرش کے ستاروں کا نہیں پتہ؟ اس نے کہا کہ جی اچھا آپ بتائیں کہ سمندر میں مچھلیاں کتنی ہیں؟ کہتا ہے مجھے بھی نہیں پتہ، اس نے کہا کہ تمہیں فرش کا پتہ نہیں تم عرش کی باتیں کرتے ہو، وہ حیران و پشیمان رہ گیا۔



















































