حضرت مولانا محمد انعام الحق قاسمی نے بتایا کہ ایک صاحب میرے پاس آئے۔۔۔ یہ ان میں سے تھے جو کسی کی نہیں مانتے۔۔۔ مجھے کہنے لگے کہ آپ پڑھے لکھے بندے ہیں، آپ کیوں حنفی بنے پھرتے ہیں؟ میں نے کہا: کیوں؟ کہنے لگے کہ ہم نے کتابوں میں پڑھا ہے کہ امام اعظمؒ کو صرف سترہ حدیثیں یاد تھیں، میں نے کہا: اچھا! پہلے تو میں تھا مضبوط حنفی اور اب یہ سن کر بن گیا ہوں اضبط حنفی، وہ کہنے لگے کیوں؟ میں نے کہا: اب آپ جھٹلا نہیں سکتے،
امام اعظمؒ نے اپنی زندگی میں چھ لاکھ مسائل کے جوابات اپنے شاگردوں سے لکھوائے، میں اس شخص کو اپنا امام کیوں نہ مانوں جس نے سترہ حدیثوں سے چھ لاکھ مسائل کے جواب نکالے؟ پھر وہ بات کا رخ بدلنے لگے، کہنے لگے کہ میں آپ سے ایک بات کرتا ہوں، میں نے کہا: کریں کہنے لگے: پھر آپ کوفہ نہ پہنچ جانا، کیونکہ میں اکثر اپنے ائمہ کی باتیں بتاتا ہوں، میں نے الزامی جواب دیتے ہوئے کہا: جی آپ بات کریں، مگر آپ بھی بخاری نہ پہنچ جانا اگر ہم کوفہ پہنچتے ہیں تو تم بھی تو بخاری پہنچ جاتے ہو۔



















































