اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

بیٹی کے نہ ہونے کا دکھ

datetime 14  اپریل‬‮  2017 |

میری شادی ہوئی تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے دعاء کی کہ میرے رب پہلی اولاد بیٹی عطاء کر دیجئے۔ اس دعاء کے پیچھے میری اس محرومی کا اثر تھا جو بہن کے نہ ہونے سے تھی۔ دعاء قبول تو ہوگئی مگر بچی چند گھنٹے بھی نہ جی سکی۔ ایک بار پھر وہی دعاء شروع کردی مگر ولادت صلاح الدین کی ہوگئی۔ کچھ عرصے بعد پھر بیٹی مانگنی شروع کردی مگر طارق کی پیدائش ہوئی۔

پھر سات سال کا وقفہ آیا لیکن دعاء اب بھی وہی تھی، اس بار وقاص تشریف لے آئے۔ وقاص کی پیدائش کراچی میں ہوئی تھی اور میں اسلام آباد میں تھا۔ ایک ماہ بعد میری فیملی کراچی سے آنے لگی تو فلائٹسے ایک روز قبل میری والدہ محترمہ کی کال آئی۔ انہوں نے فرمایا، تم عالم ہو یہ جانتے ہوگےکہ بیٹیاں اور بیٹے دینا اللہ کا اختیار ہے، اس بار بھی لڑکا ہوا ہے تو اس میں کسی کا کوئی قصور نہیں، میری بہو سے نہ لڑنا۔ میں نے ہنس کر عرض کیا، اس میں لڑنے والی تو کوئی بات ہی نہیں، میں بیٹی اپنی اہلیہ سے نہیں اللہ سے مانگتا آیا ہوں، اگر اسکو منظور نہیں تو میں اس کیرضاء پر راضی ہوں۔ حد یہ ہوئی کہ اگلے روز فلائٹ سے دو تین گھنٹے قبل میرے بچوں کی نانی محترمہ کی بھی اسی طرح کی کال آگئی، ان سے بھی وہی عرض کیا جو والدہ سے کیا تھا۔ فیملی اسلام آباد ائیرپورٹ کے ارائیول لاؤنچ سے باہر آئی تو نومولود وقاص اپنے ماموں کی گود میں تھا، میں نے وقاص کو گود میں لینے کے بجائے سامان اٹھا لیا اور اس خیال سے اٹھایا کہ یہ زیادہ بھاری ہے تو خود اٹھا لیتا ہوں۔ بس جی یہ حرکت گلے ہی پڑگئی، میرے اس گڈ جسچر کا مطلب یہ لے لیا گیا کہ مجھے وقاص میںکوئی دلچسپی نہیں۔ اس تصور کو توڑنے کے لئے وقاص کو خود سے ایسا قریب کیا کہ آج تک ساتھ جڑا ہوا ہے۔ اگر آپ میرے بھائیوں سے پوچھیں تو وہ آپکو گواہی دینگے کہ میں انکے بچوں سے بے تکلف نہیں ہوتا لیکن بچیوں کے ساتھ تو میں بچہ بن جاتا ہوں۔

بچیوں کی پیدائش پر کڑھنے والوں کو اگر میں بہن اور بیٹی کی محرومی سے پیدا ہونے والا اپنا درد دکھاپاؤں تو بخدا آپ کو مجھ پر ترس آجائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…