ایک آدمی میرے پاس آیا، کہنے لگا یہ قیاس کیا چیز ہوتی ہے؟ میں نے اس کو سمجھایا کہ قیاس اس کو کہتے ہیں کہ دین کے ایک اصول اور کسی کلی کو استعمال کرکے جزئی مسئلہ کا جواب نکال لینا، یا جن چیزوں میں علت حکم ایک جیسی ہو تو جو حکم اس کا ہو وہی اس پر بھی اپلائی کر دینا اس کو قیاس کہتے ہیں، وہ کہنے لگا،
میں اسے نہیں مانتا، کچھ ہوتے ہیں نا۔۔۔ جو کسی کو نہیں مانتے۔۔۔ کہنے لگا میں کسی کو نہیں مانتا، ہم نے کہا اچھا بھئی اب چاہتے کیا ہو؟ کہنے لگا مجھے بتائیے قیاس کہاں سے آیا؟ وہ ایک دیہاتی آدمی تھا، میں نے کہا مجھے بتاؤ کیسے وقت گزر رہا ہے، کیا کام کرتے ہو؟ اس نے کہا جی میرے پاس ماشاء اللہ چھ، سات بھینسیں ہیں، اچھا گزارا ہو رہا ہے، میں نے کہا دیکھو بھئی، پورے قرآن پاک میں اور سارے احادیث کے ذخیرے میں کہیں بھی بھینس کا لفظ موجود نہیں ہے بھینس کو عربی میں جاموس کہتے ہیں، اور جاموس کا لفظ قرآن اور حدیث کے اندر کہیں نظر نہیںآتا تو جب اس کا ذکر ہی نہیں تو تمہیں تو پتہ ہی نہیں کہ یہ حلال ہے یا حرام، لہٰذا اپنی سات بھینسیں تو ہمیں بھجواؤ ان کا دودھ ہم پئیں جو اس کو جائز کہتے ہیں اور تمہارے پاس تو کوئی دلیل ہی نہیں اس کے جائز ہونے کی تم پی ہی نہیں سکتے یا تو تم مجھے اس کے جواز کا حکم بتاؤ، کہنے لگا جی اگر گائے کا دودھ حلال ہے تو بھینس بھی گائے کی طرح ہے اس کا بھی حلال ہے، میں نے کہا اسی کو تو قیاس کہتے ہیں، تم نے قیاس کیا نا کہ گائے کا لفظ قرآن مجید میں موجود ہے تو گائے کا دودھ حلال ہے چونکہ بھینس اور گائے مشابہت رکھتی ہے، لہٰذا اس علت حکم کی وجہ سے جیسے گائے کا دودھ انسان کے لیے حلال ہے ویسے ہی بھینس کا دودھ بھی حلال ہو گیا، تو بات سمجھ میں آ گئی۔



















































