کسی گاؤں میں ایک پیر صاحب گئے، انہیں مسجد میں بیان فرمانا تھا، دیہاتی لوگ اکٹھے ہوگئے، بیان شروع ہونے سے پہلے ایک سادہ لوح بڑے میاں کھڑے ہو گئے، اس نے پیش بندی کے طور پر پیر صاحب سے پوچھا: پیر صاحب! ہم ان پڑھ بندے ہیں، اگر ہمیں کوئی بات سمجھ نہ آئے تو کیا ہم سوال پوچھ سکتے ہیں؟ پیر صاحب نے کہا: ہاں ہاں، آپ سوال پوچھ سکتے ہیں، اس کے بعد پیر صاحب نے بیان شروع کر دیا،
بیان کرتے کرتے پیر صاحب نے ایک بات بتائی کہ قیامت کے دن بندے کو پل صراط سے گزرنا ہو گا، احادیث میں اس کا تذکرہ آیا ہے، انہوں نے سمجھانے کے لیے اس کو یوں بیان کیا۔۔۔ وہ پل بہت ہی نازک ہے، بال سے باریک تلوار سے زیادہ تیز ہے۔۔۔ جب انہوں نے یہ کہا تو وہ بوڑھا کھڑا ہو گیا، وہ کہنے لگا: پیر صاحب! لگدا اے ایہہ کوڑا اے (پیر صاحب! مجھے لگتا ہے کہ یہ جھوٹ ہے)اب پیر صاحب نے اس کو بات سمجھائی کہ جی پل صراط ہے، اس کا تذکرہ کتابوں میں موجود ہے اور اس پل سے ہر آدمی کو گزرنا پڑے گا، لیکن وہ یہی کہتا رہا کہ مجھے لگتا ہے کہ یہ جھوٹ ہے، بالآخر جب پیر صاحب نے اس کو تسلی دلائی کہ واقعی کتابوں میں لکھا ہوا ہے تو کہنے لگے:’’اچھا، اس پل توں ٹپنا پم سی جیہڑی وال توں ڈھیر بریک تے تلوار توں ڈھیر تیز اے‘‘(اچھا ایسی پل سے گزرنا پڑے گا جو بال سے زیادہ باریک اور تلوار سے زیادہ تیز ہے)پیر صاحب نے کہا: ہاں ہاں بالکل ایسا ہی ہے۔یہ سن کر وہ کہنے لگا: ’’پیر صاحب! انجے چا آکھو ناں، اللہ سائیں دی پار ٹپاون دی نیت کائی نہیں‘‘(پیر صاحب! پھر آپ یونہی کہہ دیں کہ اللہ تعالیٰ کی اس پل سے آگے گزرنے کی نیت ہی نہیں ہے)اس کے بعد پیر صاحب نے پھر بیان شروع کر دیا، بیان کرتے کرتے ایک جگہ پر انہوں نے فرمایا کہ نمازیں پڑھو، اگر نمازیں نہیں پڑھو گے تو اللہ تعالیٰ حساب لے گا اور جہنم میں ڈالے گا اور جہنم میں عذاب دینے کے بعد پھر جنت میں بھیجے گا۔وہ بڑے میاں پھر کھڑے ہو کر کہنے لگے:
’’پیر صاحب! مینوں لگدا اے ایہہ وی کوڑ اے‘‘ (پیر صاحب! مجھے لگتا ہے کہ یہ بھی جھوٹ ہے) پیر صاحب نے کہا: نہیں جی، کتابوں میں لکھا ہے کہ جو آدمی گناہ کرنے کے بعد توبہ نہیں کرے گا اور اسی طرح غفلت میں زندگی گزارے گا تو یہ بندہ پہلے جہنم میں جائے گا، وہاں جب اسے سزا مل جائے گی تب وہ جنت میں جائے گا۔ وہ بڑے میاں اپنی بات پر مصر رہے کہ یہ جھوٹ ہے، جب انہوں نے ان کو سمجھایا کہ اللہ کے نبیؐ نے یہ بتایا ہے تو پھر وہ بڑے میاں کہنے لگے:
’’پیر صاحب! ہک گل دسو، میرے گھر جوں کوئی پراہنا آوے، تے مین اوہنوں پنج ست لتر ماراں، مڑ آکھاں بھج آ ککڑ کھا لے، اوہ کھا لیسی‘‘ (پیر صاحب! آپ مجھے ایک بات بتائیں کہ میرے گھر میں کوئی مہمان آئے اور میں اس مہمان کو پانچ سات جوتے لگا دوں اور پھر اسے کہوں کہ جناب! آئیے مرغا کھا لیجئے، کیا وہ کھا لے گا؟) پھر وہ بڑے میاں کہنے لگے: پیر صاحب! قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نے جس کو بخشنا ہو گا اس کو ویسے ہی بخش دیں گے۔۔۔ سالک کو محنت کرنا ہی ہے، راہِ سلوک بغیر مجاہدہ طے نہیں ہوتا، مگر ہاں رحمت الٰہی کی امید ہر دم لگائے رکھئے۔



















































