ممتاز مفتی اردو ادب میں ایک ممتاز نام ہے انہوں نے ایک واقعہ لکھا کہ میں قدرت اللہ شہاب کے ساتھ مسجد الحرام کے صحن میں بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک قدرت نے پوچھا: “یہ آپ کے ہاتھ میں کیا ہے؟یہ کاپی ہے۔ یہ کیسی کاپی ہے؟ اِس میں دعائیں لکھی ہیں۔
میرے کئی ایک دوستوں نے کہا تھا کہ خانہ کعبہ میں ہمارے لئے دعا مانگنا،میں نے وہ سب دعائیں اِس کاپی میں لکھ لی تھیں۔”دھیان کرنا!” وہ بولے “یہاں جو دعا مانگی جائے وہ قبول ہو جاتی ہے۔کیا مطلب؟ میری ہنسی نکل گئی۔ “کیا دعا قبول ہو جانے کا خطرہ ہے؟ہاں، کہیں ایسا نہ ہو کہ دعا قبول ہو جائے۔میں نے حیرت سے قدرت کی طرف دیکھا۔ بولے اسلام آباد میں ایک ڈائریکٹر ہیں۔ عرصہ دراز ہوا اُنہیں بخار ہو جاتا تھا۔ ڈاکٹر، حکیم، وید، ہومیو،سب کا علاج کر دیکھا، کچھ افاقہ نہ ہوا۔ سوکھ کر کانٹا ہو گئے۔ آخر چارپائی پر ڈال کے کسی درگاہ پر لے گئے۔ وہاں ایک مست سے کہا بابا دعا کر کہ اِنہیں بخار نہ چڑھے۔ انہیں آج تک پھر کبھی بخارنہیں چڑھا۔ اب چند سال سے ان کی گردن کے پٹّھے اکڑے ہوئے ہیں۔ وہ اپنی گردن اِدھر اُدھر ہلا نہیں سکتے۔ ڈاکٹر کہتے ھیں کہ یہ مرض صرف اسی صورت میں دور ہو سکتا ہے کہ انہیں بخار چڑھے۔ انہیں دھڑا دھڑ بخارچڑھنےکی دوایاں کھلائی جا رہی ھیں، مگر انہیں بخار نہیں چڑھتا۔دعاؤں کی کاپی میرے ہاتھ سے چھوٹ کر گر پڑی۔ میں نے اللہ کے گھر کی طرف دیکھا۔ “میرے اللہ! کیا کسی نے تیرا بھید پایا ہے؟



















































