اورنگ زیب عالمگیرؒ کی ایک بیٹی کا نام زیب النساء تھا، وہ بھی فارسی میں اشعار کہتی تھی، اس نے اپنا تخلص، مخفی رکھا ہوا تھا، اس کا ’’دیوان مخفی‘‘ چھپا ہوا ہے وہ بڑے اچھے اشعار کہتی تھی۔اس زمانے میں ایک ایرانی شہزادہ تھا، اس نے ایک مصرعہ کہا۔درا بلق کسے کم دیدہ موجود۔(درا بلق کس نے دیکھا ہے، بہت کم موجود ہوتاہے)۔ایک موتی کو درا بلق کہتے ہیں، وہ سفید اور چمکدار ہوتاہے، مگر اس میں ایک باریک سی کالی لائن ہوتی ہے،
اس کو ابلق کہتے ہیں، تو اس نے کہا کہ درا بلق کس نے دیکھا ہے؟ بہت کم موجود ہوتا ہے۔۔۔ پہلا مصرعہ تو اس نے بنا لیا لیکن دوسرا مصرعہ اس سے نہیں بن رہا تھا، چنانچہ اس نے کہا: جو بندہ دوسرا مصرعہ بنائے گا میں اس کو بڑا انعام دوں گا۔یہ بات چلتے چلتے ایران سے ہندوستان تک پہنچی، یہاں کے شعراء نے بھی کافی طبع آزمائی کی لیکن کچھ نہ بنا، مخفی نے بھی اس مصرعہ کی شہرت سن لی تھی، ایک دن اتفاقی طور پر اس شعر کا دوسرا مصرعہ کہہ دیا۔ہوا یوں کہ ایک مرتبہ نہانے کے بعد اس نے اپنی آنکھوں میں سرمہ ڈالا۔۔۔ سرمہ ڈالنے سے کئی مرتبہ آنکھوں میں پانی آ جاتا ہے۔۔۔ سرمہ ڈالنے کے بعد جو اس نے آئینہ دیکھا تو وہ آنکھ سے نکلا ہوا پانی آنسو کی شکل میں پلکوں کے اوپر تھا اور اس میں سرمے کی وجہ سے ہلکی سی لائن تھی، اس نے دیکھتے ہی کہا کہ یہ تو درابلق کی طرح ہے، چنانچہ اس نے وہیں دوسرا مصرعہ کہہ کر شعر مکمل کر دیا کہ ۔درا بلق کسے کم دیدہ نہ موجود۔۔مگر اشک بتاں سرمہ آلود۔یہ ایسا مزے کا شعر بنا کہ جو سنتا تھا حیران ہوتا تھا، اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی نے چت کبرا موتی کبھی نہ دیکھا ہو مگر کسی معشوقہ کی آنکھ کا سر قطرہ درابلق ہے۔یہ بات اس شہزادے تک پہنچی، اس شہزادے نے کہا: شاعر کو میرے پاس بھیجو، میں اس کو بڑا انعام دینا چاہتا ہوں، جب یہ بات اورنگزیب عالمگیر تک پہنچی تو بیٹی سے کہا:
بیٹی! میں تجھے کہتا نہیں تھا کہ تو شعر نہ کہا کر، کسی مصیبت میں ڈالے گی، اب دیکھو شہزادہ کہتا ہے کہ جس شاعر نے یہ کہا ہے، وہ میرے پاس آئے، میں اسے انعام دینا چاہتا ہوں، مخفی کہنے لگی: ابا جان! آپ پریشان نہ ہوں، میرے دو شعر لکھ کر اس کے پاس بھیج دیں، وہ بات کو سمجھ جائے گا، چنانچہ اس نے شعر کہے:در سخن مخفی منم چوں بوئے گل در برگ گل۔
’’میں اپنے کلام میں اس طرح چھپی ہوئی ہوں جس طرح پھول کے اندر خوشبو چھپی ہوئی ہوتی ہے‘‘۔ہر کہ دیدن میل دارد درسخن بیندمرا’’میں اپنے کلام میں ایسے ہی پوشیدہ ہوں جیسے پھول کی پتیوں میں پھول کی خوشبو‘‘جو مجھ کو ملنا چاہتا ہے اس کو چاہیے کہ میرے کلام کو پڑھ لے، کلام کے ذریعہ مجھ سے ملاقات ہو جائے گی۔یہ اشعار بھیجنے سے سمجھ گیا کہ یہ کوئی خاتون ہے۔



















































