ایک مجلس میں یہ مسئلہ چلا کہ ایک آدمی نمازِ فرض پڑھ رہا تھا، اب اس کو دو رکعت کے بعد التحیات میں بیٹھنا ہے اور عبدہ و رسولہ پڑھ کر اس کو کھڑا ہو جانا ہے مگر وہ بھول گیا اور عبدہ و رسولہ کے بعد آگے بھی درود شریف پڑھنے لگا تو کیا ہوگا؟ امام اعظم ابو حنیفہؒ نے فرمایا کہ اگر اس نے اللھم پڑھ لیا اور کھڑا ہو گیا تو سجدہ سہو نہیں، صل پڑھ لیا، کھڑا ہو گیا، سجدہ سہو نہیں، صل پڑھ لیا، کھڑا ہو گیا، سجدہ سہو نہیں، علی بھی پڑھ لیا،
کھڑا ہو گیا تو سجدہ سہو نہیں لیکن اگر محمد کا لفظ پڑھ لیا تو اب سجدہ سہو واجب ہو گیا، جب انہوں نے یہ فتویٰ دیا تو رات میں اللہ کے رسولؐ کا دیدار ہوا، نبی کریمؐ نے ارشاد فرمایا کہ نعمان! تم میرے نام لینے والے کے لیے سجدہ سہو کا حکم دیتے ہو تو عرض کیا یا رسول اللہؐ جو آدمی قعدہ میں غفلت سے آپ کا نام لے، میں اس کو سجدہ سہو کا حکم دیتا ہوں، نبی کریمؐ مسکرانے لگے، فرمایاتم نے ٹھیک کیا، سبحان اللہ، اللہ رب العزت نے ان کو ایسی ذہانت عطا فرمائی تھی۔



















































