حضرت مولانا محمد انعام الحق قاسمی کہتے ہیں کہہمیں ایک مرتبہ بالٹی مور جانے کا موقع ملا، وہاں پر ایک بہت بڑا مچھلی گھر ہے، اس میں انہوں نے بہت ہی عجیب و غریب قسم کی مچھلیاں پالی ہوئی ہیں، وہ چونکہ ایک ایجوکیشنل ٹرپ تھا اس لیے ہم نے سب کچھ بڑے شوق سے دیکھا اور ہمیں مچھلیوں کے بارے میں بہت معلومات ملیں،
پھر آخر میں وہ کہنے لگے کہ جانے سے پہلے ہم آپ کو ڈالفن شو دکھائیں گے، چنانچہ سب لوگ بیٹھ گئے۔ہم نے دیکھا کہ سوئمنگ پول کی طرح ایک بڑی ساری جگہ بنی ہوئی ہے اور اس میں ڈالفن تیر رہی ہے، انہوں نے اس کے کئی کرتب دکھائے، اس میں سے ایک کرتب واقعی عجیب تھا۔پانی کی سطح سے تقریباً پچیس سے تیس فٹ اونچا ایک بال تھا، جو انہوں نے اوپر سے نیچے لٹکایا اور ڈالفن کو اشارہ کیا کہ تم اس بال کو کک لگاؤ، ڈالفن اس وقت سوئمنگ پول کے کونے میں تھی، جیسے ہی اس نے کمانڈ دی، ڈالفن نے پانی کے اندر تیرنا شروع کیا اور عین وسط میں آ کر اتنی اونچی چھلانگ لگائی کہ اس نے اپنے منہ سے بال کو کک لگا دی۔۔۔ یا اللہ! ایک حیوان کو بھی اتنا کچھ سکھایا جا سکتا ہے۔اس وقت ڈالفن بہت خوش تھی، پھر اس نے اس خوشی کا اظہار اس طرح کیا کہ وہ کنارے کے قریب تیرنے لگے اور اس نے اپنی اتنی بڑی دم کے اندر پانی لے کر سب وزیٹرز پر اس طرح پھینکا کہ سب کے کپڑے تر ہو گئے، تو دیکھئے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے عقل کے نور سے نوازا اور انسان نے اس عقل کے ذریعہ جانوروں کو بھی سدھا لیا۔



















































