بعض فنی مہارتیں رکھنے والے لوگ اپنے فن کا راز بھی دوسرے سے پوشیدہ رکھتے ہیں ،دوسروں کو بتانے میں بخل کرتے ہیں۔عباسی دور میں حکیم بن ہاشم نامی آدمی نے ایک مصنوعی چاند بنایا، اسے ماہ نخشب کہتے تھے کیونکہ وہ چاند نخشب نامی کنوئیں سے طلوع ہوتا تھا، وہ چاند تقریباً دو سو مربع میل کا علاقہ منور کرتا تھا،
اس چاند کی خوبی یہ تھی کہ وہ سورج کے غروب ہوتے ہی نکل آتا اور اس کے طلوع ہوتے ہی غروب ہو جاتا تھا، حکیم نے اس چاند کی حقیقت کسی کو نہ بتائی اور وہ اس کا راز سینے میں لیے تیزاب کے مٹکے میں گرا اور وہیں مر گیا۔۔۔ جب خود ساختہ چاند بن سکتا ہے اور روشنی پھیلا سکتا ہے تو کیا ہم اپنے باطن کو منور اور روشن نہیں کر سکتے؟



















































