جاپانیوں نے ایک ہنر متعارف کروایا جس کا نام ’’کراٹے‘‘ ہے، یہ ایک ایسا طریقہ ہے کہ اگر ایک دبلا پتلا لڑکا بھی کراٹے جانتا ہو تو وہ اچھے خاصے پہلوان کو زمین پر لٹا دیتا ہے، اس فن کا موجد جب بوڑھا ہو گیا اور بال سفید ہوگئے تو اس وقت اس نے بھینسے کے ساتھ فائیٹنگ کا مقابلہ کیا۔۔۔ وہ کہتا تھا بندوں کے ساتھ کیا مقابلہ کرنا، یہ تو نازک ہوتے ہیں لہٰذا میں بھینسے کے ساتھ مقابلہ کرتا ہوں۔۔۔
اس نے بھینسے کے ساتھ مقابلہ کیسے کیا؟ وہ بوڑھا اپنے سر پر سرخ پٹی باندھ کر کھڑا ہوگیا، کیوں کہ جو لڑنے والے بھینسے ہوتے ہیں وہ سرخ رنگ کو دیکھتے ہیں تو وہ اس بندے کے پیچھے بھاگتے ہیں اور اس کو زمین سے اچھال کر اس کی ہڈیاں توڑ دیتے ہیں، جب وہ آدمی کھڑا ہوا تو وہ بھینسا بھاگتا ہوا اس کی طرف آیا تو وہ تھوڑا سا ایک طرف ہٹ گیا اور جیسے ہی بھینسا آگے گزرنے لگا تو اس نے اپنے ہاتھ کو اس کے سینگ کے اوپر مارا تو بھینسے کا سینگ نکل کر گر گیا، اب بھینسا زخمی ہو گیا، زخمی بھینسے کو اور زیادہ غصہ آتا ہے، لہٰذا وہ چکر کاٹ کر دوبارہ زیادہ غصے کے ساتھ آیا، جب وہ بوڑھے کے قریب آیا تووہ دوسری طرف کو مڑ گیا اور اب اس کے دوسرے سینگ پر اپنا ہاتھ مارا جس سے دوسرا سینگ بھی نیچے گر گیا، جب بھینسے کے دونوں سینگ ٹوٹ گئے اور خون بہنے لگا تو اب اس کے غصے کی کوئی انتہا نہ رہی، چنانچہ جب وہ تیسری دفعہ آیا تو گویا اس کی آنکھوں سے شعلے نکل رہے تھے ، اب کی بار جب بھینسا دوڑتا ہوا اس کے قریب آیا تو پھر اس کے سامنے سے بوڑھا ذرا ایک طرف کو ہٹا اور اس نے اس کی ریڑھ کی ہڈی پر پورے زور سے اپنا ہاتھ مارا جس سے اس کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ گئی اور وہ وہیں بیٹھ گیا اور اس کی جان نکل گئی، تین وار کرکے بوڑھے نے ایک بھینسے کو مار دیا۔۔۔ یہ ایک مادی علم کی طاقت تھی جس کے بل بوتے پر اس نے اس فن کا مظاہرہ کیا۔۔۔ اگر اس دنیاوی فن کا یہ اثر ہو سکتا ہے تو اگر ہم علم الٰہی کو حاصل کریں اور اس میں پختگی حاصل کریں تو بے شمار نعمت حاصل کر سکتے ہیں۔



















































