(1)۔ حضرت امام ابوحنیفہؒ کے حالات زندگی میں لکھا ہے کہ امام ابو یوسفؒ کو ان کی والدہ نے کسب معاش کے لیے بھیجا، یہ حصول رزق کے لیے مختلف کام کرتے رہے، والدہ کا مشورہ یہ تھا کہ اگر کپڑے دھونے کا فن سیکھ لیں تو کچھ گزر اوقات کے لیے بندوبست ہو جائے گا، ایک مرتبہ امام ابو یوسفؒ حضرت امام ابو حنیفہؒ کے درس میں شریک ہوئے تو انہیں علم حاصل کرنے کا شوق پیدا ہوا،
والدہ صاحبہ کی طرف سے اصرار تھا کہ محنت مزدوری کرکے پیسہ کمائیں اور ان کا جی چاہتا تھا کہ علم حاصل کرکے عالم بنوں، انہوں نے سارا حال امام ابوحنیفہؒ کے گوش گزار کر دیا، امام صاحبؒ نے شاگرد رشید میں سعادت کے آثار دیکھے تو فرمایا کہ آپ اس میں باقاعدگی سے آتے رہیں، ہم آپ کو کچھ ماہانہ وظیفہ دے دیا کریں گے وہ آپ اپنی والدہ کو دے دیا کریں، چنانچہ امام ابو یوسفؒ سارا مہینہ امام صاحبؒ کی مجلس درس میں شریک رہتے اور امام صاحبؒ اپنی گرہ سے کچھ وظیفہ کے طور پر پیسے دے دیتے جو امام ابو یوسفؒ اپنی والدہ کے سپرد کر دیتے، کافی عرصہ یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا، ایک دن امام ابو یوسفؒ کی والدہ کو پتہ چلا کہ بیٹا محنت مزدوری کی بجائے تحصیل علم میں مشغول ہے تووہ برا فروخت ہوئیں، بیٹے کو سمجھایا کہ تمہارے والد فوت ہوگئے ہیں، گھر میں کوئی دوسرا مرد نہیں جو کما سکے، لہٰذا تم اگر کوئی کام کاج کرتے تو اچھا ہوتا، بہتر تھا کہ کوئی فن سیکھ لیتے، امام ابو یوسفؒ نے یہ سب ماجرا امام صاحبؒ کی خدمت میں پیش کر دیا، امام صاحبؒ نے کہا کہ اپنی والدہ سے کہنا کہ کسی وقت آ کر میری بات سنیں، چنانچہ امام صاحبؒ اپنی والدہ کو لے کر حاضر خدمت ہوئے، والدہ نے امام صاحبؒ کی خدمت میں وہی صورتحال پیش کی جو آپ پہلے سن چکے تھے، آپ نے ارشاد فرمایا کہ میں آپ کے بیٹے کو ایک فن سکھا رہا ہوں کہ جس سے یہ پستے کا بنا ہوا فالودہ کھایا کرے گا،
امام ابو یوسفؒ کی والدہ سمجھیں کہ شاید امام صاحبؒ خوش طبعی فرما رہے ہیں، تاہم خاموش ہوگئیں کیونکہ گھر کا خرچ تو وظیفہ کی وجہ سے چل ہی رہا تھا۔(2)۔ جب امام ابو یوسفؒ نے تکمیل علم سے فراغت حاصل کر لی اور ابو یوسف امام بن گئے تو ان کے علم کا شہرہ دور دور تک پھیل گیا، حکومت وقت نے امام اعظم ابو حنیفہؒ کو قاضی القضاۃ کا عہدہ پیش کیا، تو انہوں نے علمی مشغولیات کی وجہ سے معذرت کر دی، البتہ امام ابو یوسفؒ کو فرمایا کہ وہ یہ عہدہ قبول کرلیں، امام ابو یوسفؒ وقت کے چیف جسٹس (قاضی القضاۃ) بن گئے،
پورے ملک میں ان کی قبولیت عام ہو گئی، حکومت وقت نے یہ ذمہ لیا کہ کام کے دوران کھانے کا بندوبست حکومت کی طرف سے ہوگا، ایک دفعہ خلیفۂ وقت ان کو ملنے کے لیے آیا اور اپنے ہمراہ پیالے میں فالودہ لایا، جب امام ابو یوسفؒ کو پیش کیا تو کہا: حضرت ! یہ قبول فرمائیں، یہ وہ نعمت ہے جو ہمیں کبھی کبھی ملتی ہے، مگر آپ کو روزانہ ملا کرے گی، آپ نے پوچھا یہ کیا ہے؟ خلیفہ نے کہا یہ پستے کا بنا ہوا فالودہ ہے، امام ابو یوسفؒ حیران ہوئے کہ استاد مکرم کی زبان سے نکلی ہوئی بات من و عن پوری ہوگئی۔



















































