حضرت حماد بن سلمہؒ کی ہمشیرہ عاتکہ فرماتی ہیں کہ حضرت امام ابو حنیفہؒ ہمارے گھر کی روئی دھنتے تھے اور ہمارا دودھ، ترکاری خرید کر لاتے تھے اور اس طرح کے بہت سے کام کیا کرتے تھے، حضرت حمادؒ امام ابو حنیفہؒ کے استاد تھے، اس وقت کیا کوئی سمجھ سکتا تھا کہ حماد بن سلمہؒ کے گھر کا یہ خدمت گار شاگرد تمام عالم کا مخدوم بنے گا۔۔۔۔خلیفہ ہارون رشید نے اپنے بیٹے کو حضرت اصمعیؒ کی خدمت میں تربیت کے لیے بھیجا،
ایک دن جب ملنے کے لیے گئے تو دیکھا کہ شہزادہ پانی ڈال رہا ہے اور حضرت اصمعیؒ وضو کرتے ہوئے اپنے پاؤں دھو رہے ہیں، ہارون رشید نے اصمعیؒ سے کہا ہ میں نے تو بیٹے کو تربیت کے لیے بھیجا تھا، اگر آپ اس کو ادب سکھاتے تو کتنا اچھا ہوتا، حضرت اصمعیؒ نے کہا کہ یہ پانی تو ڈال رہا ہے، ہارون رشید نے کہا کہ حضرت آپ اسے حکم فرماتے کہ یہ ایک ہاتھ سے پانی ڈالتا اور دوسرے ہاتھ سے پاؤں دھوتا۔۔۔۔ شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ کے حالات میں ہے کہ ایک مرتبہ ان کے استاد حضرت شیخ الہندؒ کے یہاں مہمان زیادہ آ گئے، بیت الخلاء ایک ہی تھا، مہمانوں کا کئی دن قیام رہا، حضرت مدنیؒ روزانہ رات میں آ کر بیت الخلاء صاف کر جاتے اور صبح کے وقت مہمانوں کو بیت الخلاء بالکل صاف ملتا۔ان ہی کا واقعہ ہے کہ حضرت مدنیؒ اپنے شیخ محمود الحسنؒ کے ساتھ مالٹا کی جیل میں تھے کہ سردیوں کا موسم شروع ہوگیا، حضرت شیخ الہندؒ جب رات کو تہجد کے لیے اٹھتے تو پانی بہت زیادہ ٹھنڈا ہوتا، حضرت مدنیؒ نے یہ طریقہ سوچا کہ رات کو سوتے وقت برتن میں پانی بھر لیتے اور سجدہ کی حالت میں سو جاتے، جب کہ برتن کو اپنے پیٹ اور بازؤں کے درمیان رکھ لیتے، پانی چونکہ ہر طرف سے ڈھانپ لیتے، لہٰذا جب تہجد کا وقت ہوتا تو وہ پانی نیم گرم حالت میں ہوتا، یہ پانی وضو کے لیے اپنے استاد کو پیش کرتے، کافی عرصہ اسی طرح گزر گیا،
ایک دن تھکاوٹ ایسی تھی کہ حضرت مدنیؒ پر نیند غالب آ گئی، جب تہجد کے لیے اٹھے تو ٹھنڈے پانی سے وضو کروانا پڑا، حضرت شیخ الہندؒ نے فرمایا کہ کیا پانی وہیں سے لائے ہو، جہاں سے پہلے لاتے تھے، حضرت مدنیؒ نے عرض کیا کہ آج مجھ سے غفلت ہوئی، رات کو بھر کر نہیں رکھ سکا، تب شیخ الہندؒ کو یہ راز معلوم ہوا کہ شاگرد اپنے استاد کو گرم پانی مہیا کرنے کی خاطر ساری رات سجدہ
کی حالت میں گزار دیا کرتا تھا۔قاضی امام فخرالدین ارسا بندیؒ شہر ’’مرو‘‘ کے امام الائمہ تھے، بادشاہ ان کی بہت تعظیم کیا کرتاتھا، قاضی صاحب فرمایا کرتے تھے کہ میں اپنے استاد قاضی امام ابو یزید دبوسیؒ کی بہت خدمت کرتا تھا، میں نے تیس برس ان کا کھانا پکایا اور اس میں سے کچھ بھی نہیں کھایا، استاد کی اس خدمت کی وجہ سے مجھے یہ رتبہ ملا کہ بادشاہ میرے ساتھ ادب و تعظیم سے پیش آتا ہے۔



















































