یحییٰ بن معینؒ ایک محدث ہیں، جرح اور تعدیل کے یہ امام گنے جاتے ہیں، یعنی حدیث کے جو راوی ہوتے ہیں ان کی پرکھ کرنے میں اللہ نے ان کو خصوصی انعام دیا تھا، چنانچہ ایک دفعہ ان کو پتہ چلا کہ ایک محدث محمد بن فضل ہیں، ان کے پاس ایک حدیث ہے جو انہوں نے پہلے نہیں سنی ہوئی تھی، یہ ان کے پاس گئے دروازہ کھٹکھٹایا، انہوں نے دروازہ کھولا تو دروازے میں کھڑے کھڑے انہوں نے ان سے پوچھا: کیسے آنا ہوا؟
کہنے لگے کہ میں آپ سے فلاں حدیث مبارکہ سننے کے لیے آیا ہوں، انہوں نے کہا کہ ہاں مجھے زبانی بھی یاد ہے اور میں نے کتاب میں بھی لکھی ہوئی ہے تو میں ابھی آپ کو کتاب لا کر سنائے دیتا ہوں تو جب وہ واپس لوٹنے لگے تو یحییٰ بن معینؒ نے ان کا قمیض پکڑ لیا کہ حضرت! ایسا نہ ہو کہ آپ لینے جائیں اور اس دوران مجھے موت آ جائے یا آپ کو آ جائے، حدیث پہلے سنا دیں اس کے بعد پھر جا کے کتاب لے آنا میں حدیث دوبارہ پھر سن لوں گا۔



















































