حضرت اشرف علی تھانویؒ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ میری بڑی گھر والی کہیں جانے لگیں اور مجھے کہہ گئیں کہ گھر میں مرغیاں پالی ہوئی ہے تو ان کو اپنے وقت پر دانا پانی ڈال دیجئے گا،
میں نے کہا بہت اچھا، فرماتے ہیں کہ میں وہ بات ہی بھول گیا، اب میں تفسیر (بیان القرآن) لکھنے جو بیٹھا تو کوئی مضمون وارد نہیں ہو رہا، اللہ سے توبہ کی بڑی دعائیں مانگیں مگر طبیعت میں کوئی انشراح ہی نہیں ہو رہا، آمد کا سلسلہ بالکل بند تھا، کافی دیر کے بعد فرمانے لگے کہ ہو نہ ہو، کوئی مجھ سے ایسی کوتاہی ہوئی، گناہ ہوا جس کی وجہ سے روز مجھ پرعلم آتا تھا، اللہ نے مجھے اس معرفت سے آج محروم کر دیا، کہنے لگے: میں بیٹھ کر سوچنے لگا تو اچانک مجھے خیال آیا کہ اوہو! میں نے مرغیوں کو آج دانا بھی نہیں ڈالا، فرماتے ہیں: میں اٹھ کر فوراً گھر گیا، مرغیاں بھوکی پیاسی تھیں، میں نے دانا ڈالا، ان کو پانی دیا، جب مرغیوں نے وہ پانی پیا اور دانا کھایا، اللہ نے مضامین پھر وارد کرنے شروع کر دیے اور پھر میں نے آ کے اللہ کے قرآن کی تفسیر لکھی، اگر مرغیوں کو تکلیف پہنچے تو اللہ تعالیٰ اپنی معرفت کے علم کو روک لیتے ہیں، جو اپنی بیوی کا دل دکھائے گا وہ اللہ کی معرفت کیسے پائے گا؟



















































